چھترپتی سمبھاجی نگر: مراٹھواڑہ میں اس سال بارش کی کمی کے باعث خشک سالی کا بحران دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ جون سے اگست کے دوران توقع کے مطابق بارش نہ ہونے سے کئی علاقوں میں خریف کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ اب ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ بھی تشویشناک حد تک کم ہونے لگا ہے۔
یکم جون سے 6 ستمبر کے درمیان مراٹھواڑہ میں اوسط بارش کے مقابلے میں تقریباً 34 فیصد بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ہنگولی میں 48 فیصد، جالنہ میں 43 فیصد، پربھنی میں 39 فیصد، دھاراشیو میں 37 فیصد، ناندیڑ میں 32 فیصد اور لاتور میں 31 فیصد بارش کی کمی درج کی گئی ہے۔
ڈیموں کا پانی اب صرف پینے کے لیے محفوظ
بارش کی کمی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ جائیکواڑی ڈیم کو چھوڑ کر مراٹھواڑہ کے دیگر تمام چھوٹے بڑے ڈیموں میں موجود پانی کو صرف پینے کے پانی کے لیے محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے باعث رواں ربیع سیزن کے لیے ڈیموں سے آبپاشی کے لیے پانی چھوڑنے کی منصوبہ بندی نہیں کی جائے گی۔
مانجرا اور مَکنی جیسے کم پانی والے ڈیموں پر انتظامیہ کی خصوصی نظر ہے۔ دستیاب پانی کے تحفظ کے لیے گشتی دستے تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ بغیر اجازت پانی نکالنے والے پمپ ضبط کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
خریف کی فصلیں بحران کا شکار
بارش میں طویل وقفے کے باعث سویابین، کپاس اور دیگر خریف فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کئی علاقوں میں فصلیں سوکھنے اور جھلسنے کی حالت میں پہنچ گئی ہیں۔ کنوؤں، ندی نالوں اور بورویل میں بھی پانی کی سطح کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں کسانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ فصلوں کو پانی کیسے فراہم کیا جائے۔
اگر بارش نے مزید تاخیر کی تو زرعی پیداوار میں بڑی کمی کا خدشہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی کاشتکاری پر ہونے والے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور آئندہ ربیع سیزن کی منصوبہ بندی کے باعث کسانوں پر مالی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
مویشیوں کے چارے اور پانی کا مسئلہ بھی سنگین
پانی کی قلت سے صرف زراعت ہی نہیں بلکہ مویشی بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں جانوروں کے لیے چارے اور پانی کی دستیابی کم ہوتی جا رہی ہے۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ صورتحال مزید سنگین ہونے سے پہلے حکومت فوری طور پر ضروری اقدامات کرے۔
کسانوں کو حکومتی امداد کی امید
بارش کی کمی اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر کسانوں کے لیے خصوصی امدادی پیکیج، فصل بیمہ کی رقم اور قرض کی ادائیگی میں راحت دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مراٹھواڑہ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے آئندہ دنوں میں ہونے والی بارش انتہائی اہم ثابت ہوگی۔
مجموعی طور پر اگر بارش نے مزید منہ موڑا تو مراٹھواڑہ میں خریف کی فصلوں کا نقصان، ربیع سیزن پر بحران اور پینے کے پانی کی قلت جیسے تین بڑے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔