مذہبی کتابوں میں امن وشانتی کے بے شمار پیغامات موجود

انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف تھیالوجی کے زیر اہتمام”لکچر سیریز“ میں مولانا عبدالماجد چتر ویدی کا خطاب
نئی دہلی (پریس ریلیز)دنیا کے میں پائے جانے والے تمام مذاہب کی کتابوں میں ا من وشانتی کے بہترین پیغامات موجود ہیں۔ قیامِ امن کے لیے فعال ادارے اِن پیغامات سے روشنی حاصل کرسکتے ہیں۔انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف تھیالوجی (آئی آئی ٹی)دہلی/ہریانہ کے زیر اہتمام منعقد لکچر سیریز میں مولانا عبدالماجد قاسمی چترویدی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ ہر مذہب کے ماننے والوں نے سماجی روایات کو فوقیت دی اور مذہبی تعلیمات کو نظر انداز کردیا۔یہی وجہ ہے کہ ہم ہزار کوششوں کے باوجود امن وشانتی کی فضا قائم نہیں کرپارہے ہیں۔ مولانا چترویدی نے اتھر وید اورکرشن جی کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص دھرم کی کتابوں کو چھوڑ دے اور من مانی والی زندگی گزارے وہ اس دنیا میں سکون پاسکتا ہے اور نہ ہی مرنے کے بعد۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں سلام کرنے میں اسلام کے ماننے او رنہ ماننے والوں کے درمیان تفریق نہیں کرنی چاہیے۔ جہاں بھی سلام کی تلقین کی گئی وہاں عمومیت ہے۔ اس لیے دنیا کو خوبصورت بنانے کے لیے ہمیں سلام کو عام کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے ممالک میں سلام کو رواج دینا نہ صرف ایک دینی فریضہ ہے بلکہ وقت کا تقاضہ بھی ہے۔

واضح رہے کہ تسخیر فاؤنڈیشن دہلی کے زیر اہتمام چلنی والی انٹر نیشنل انسٹی آف تھیالوجی کا مقصد بین المذاہب کام کرنا اوردیگر مذاہب وادیان کا بہتر طریقے سے تعارف کرانا ہے۔ اس کے علاوہ ان مذاہب میں پائی جانے والی مماثلتوں کو اجاگر کرنا بھی، تاکہ ہر مذہب کے ماننے و الے ایک دوسرے کو سمجھیں اور احترام کی نظروں سے دیکھیں۔اس آن لائن پروگرام کا آغاز قاری منصور عالم عرفانی(چنئی) کی تلاوت ِ قرآن سے ہوا جب کہ نظامت اور اظہار تشکر کے فرائض مولانا ساجد حسین ندوی (اسسٹنٹ پروفیسر دی نیو کالج چنئی) نے ادا کیے۔ سامعین وناظرین میں تسخیر فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری گلاب ربانی، تمیم احمد، ڈاکٹر شہریار،مولانا منہاج قاسمی، ڈاکٹر شاداب تبسم، نہاں انصاری، زمرودہ محمد، نعیمہ پروین اور نعیم النسا قریشی کے علاوہ درجنوں افراد موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading