میسور:26جنوری۔(ورق تازہ نیوز)ہمارے ملک ہندوستان کواورممالک کی بہ نسبت کئی اعتبارسے فوقیت وخصوصیت حاصل ہے۔یہاں کی تہذیب وتمدن،مو¿دت ومعاشرت،اخوت وبھائی چارگی،الفت ومحبت اورآب وہوا کی توبات ہی الگ ہے۔یہاں کے قوانین،اصول وضوابط،نظم ونسق ہر ایک کوآزادی¿ اظہاررائے،آزادی¿ ملت ومذہب میں وہ خوبیاں ہیں جواورممالک کے لئے قابل رشک اورتقلیدہے،اورچونکہ آئین ہندمیںحب الوطنی ملک شناشی کو ایک خاص درجہ دیاگیاہے۔اسی کے پیش نظر”مدرسہ عربیہ نورالعلوم،اردوماڈل پرائمری اسکول،روشن مسجدودرگاہ حضرت سیدصادق علی شاہ حسینیؒ ” میسورروڈ،بنگلور26 میں یوم جمہوریہ کی تقریب تزک واحتشام کے ساتھ منائی گئی۔ماہردرسیات،عالم نبیل فاضل جلیل مولانامحمدصدرعالم قادریمصباحی(امام روشنی مسجد)نے یوم جمہوریہ کی تاریخ اورپس منظرکوپیش کیا۔انہوں نے کہاکہ آج کی تاریخ کو”ری پبلک ڈے “کہاجاتاہے۔کیونکہ اس دن ہندوستان میںقوانین کانفاذ عمل میں آیاتھا۔ہندوستان کے سابق قانون منتری ڈاکٹربھیم راو¿ امبیڈکرنے ایسے غیرجانبدارانہ قوانین بنائے کہ آج ہرمذہب ودھرم کاپیروکارآزادی کی زندگی بسرکررہاہے ،اورہرایک کویہ حق دیاگیاہے کہ ہرکوئی اپنے مذہب کی تبلیغ کرےں اورمذہبی پروگرام کاانعقادکریں۔یہی نہیں بلکہ آئین ہندمیںہرایک کوبرابری کاحق بھی دیاگیاہے،ذات پات،رنگ ونسل،لسان وزبان اوراونچ نیچ کافرق بھی ختم کیاگیاہے۔اگرچہ کچھ شرپسندعناصرطبقہ دستورہندکی خلاف ورزی کرکے امن وامان اورگنگاجمناتہذیب کاکھلاجنازہ نکال رہے ہیں۔تاریخ کے اُن اندھوں کوقوانین ہنداوردستوراساسی کادوبارہ مطالعہ کرناچاہئے۔بہرحال ہم اپنے وطن سے بے حدالفت و محبت ،عقیدت وچاہت رکھتے ہیں اوراپنے ملک کی حفاظت کے لئے ہم اپنے جانوں کی بازی لگانے کے لئے ہمیشہ تیارہیں۔اخیرمیںانہوںنے آزادی¿ ہندوستان کی تاریخ اورمجاہدین آزادی کی بے لوث خدمات اورانگریزوں کے مقابلے میںہمیشہ سینہ سپررہنے والے جیدعلماءکی انتھک کوشیشوں کاجائزہ لیتے ہوئے کہاکہ ملک ہندکو انگریزوں کے چنگل سے نکال کرآزادکرانے میںہمارے علماءکرام کا اہم رول رہاہے اوریہی تاریخ کاآئینہ دارہے حقیقت کافسانہ نہیں۔ہندوستان کی آزادی میںاپناتن ،من،دھن قربان کرنے والی ذات حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی رحمة اللہ علیہ وہ مرد مجاہد انسان ہیںجن کی سیاسی بصیرت اورقومی غیرت وحمیت نے انگریزوں کے ناپاک عزائم ومنصوبے کو خاک میں ملاکرتمام ہندوستانیوں پراحسان عظیم کیاہے۔سرپہ کفن باندھ کرنکلنے والی یہی وہ شخصیت ہے جنہوں نے ہندوستان کوغلامیت کی زنجیرسے نکالنے کے لئے سب سے پہلے ”فتوی¿ جہاد”صادرفرمایا۔انگریزوں کومعلوم تھاکہ اپنی جگہ پرپہاڑ بن کررکے رہنے والے مولوی سے مقابلہ آسان نہیں،اگراُ نکو ڈھیل دے دی جائے تووہ دن دورنہیں کہ ہم کوشکشت فاش کاسامناکرناپڑے، اس لئے ان بدبختوں نے علامہ کی ذات کو”جزیرہ¿ انڈمان نیکوبار“منتقل کردیا۔اوروہیں آپ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔حقیقت یہ ھیکہ علامہ کے متبعین اورہمنواو¿ں نے وطن عزیزکی بازیابی کے لئے جوقربانیاں پیش کیںہیں وہ آب زرسے لکھے جانے کے قابل ہیں۔کرناٹک کی سرزمین سے حضرت ٹیپوسلطان رحمة اللہ علیہ نے بھی ہندوستان کی جنگ آزادی میں ایسے حیرت انگیز کارنامے انجام دیئے ہیں جویقیناناقابل فراموش ہے۔مگرافسوس کہ آج ان کے کارناموں کوبھلادیاگیا۔ان کے علا وہ مسلم وغیرمسلم رہنماو¿ں کی ہمت وجرا¿ت ا ورشجاعت وبہادری کومبارکباددیتاہوں جنہوں نے اپنے خون اورپسینہ کوایک کرکے انگریزوں کے خواب”سونے کی چڑیا“کی تعبیرکوسرے سے نست ونابودکرکے انگریزوں کوبے نیل مرام اورخائب وخاسرکردیا۔واضح رہے کہ یوم جمہوریہ کی یہ تقریب روشن مسجدکمیٹی کے صدرالحاج سیدناظم الدین وسکریٹری محمدلیاقت صاحابان ودیگراراکین وممبران کی اجازت و ایماءپرمنعقدہوئی۔اس موقع پرحافظ وقاری محمدشمشیررضاعرف عرفان بھائی،حافط غلام جیلانی،نائرہ میڈم(پرنسپل اردواسکول)،کملامیڈم،وطلبائے جامعہ ودیگرحضرات شریک تھے۔