امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے امریکی تفتیشی ادارے سی آئی اے کے اندازوں کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا تھا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق سی آئی اے نے جمال خاشقجی کے قتل سے قبل اور بعد میں کی جانے والی محمد بن سلمان کی فون کالز اور قتل کے بعد ترکی میں سعودی سفارت خانے میں سعودی ایجنٹس کی کالز کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔
سعودی صحافی جمال خاشقجی کو گذشتہ ماہ ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں قتل کر دیا گیا تھا اور سعودی حکومت کا کہنا تھا کہ اس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ملوث نہیں ہیں۔

مبینہ طور پر 15 سعودی ایجنٹس اکتوبر میں ایک سرکاری طیارے میں استنبول پہنچے تھے اور انھوں نے سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کا قتل ہے، جہاں وہ کچھ دستاویزات لینے آئے تھے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سی آئی اے اپنے تجزیے سے اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے کئی انٹیلی جنس ذرائع کا معائنہ کیا، جن میں امریکہ میں تعینات سعودی سفیر اور ولی عہد کے بھائی خالد بن سلمان کی جمال خاشقجی کے ساتھ فون کالز اور اس معاملے سے باخبر افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات چیت کی۔

واشنگٹن پوسٹ کے سی آئی اے کے حوالے سے کہا ہے کہ خالد بن سلمان نے جمال خاشقجی کو کہا تھا کہ وہ دستاویزات لینے کے لیے استنبول میں سعودی قونصل خانے جائیں اور انھیں یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ محفوظ رہیں گے۔
بی بی سی اردو ٹوئٹر کے انپٹ کیساتھ