بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے سماجوادی پارٹی سے فلی الحال رشتہ توڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ آج انہوں نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان انتخابات میں یادوؤں نے اپنی ہی سماج وادی پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیئے۔ انہوں نے کہا کہ جب یادوؤں نے اپنی ہی پارٹی کو ووٹ نہیں دیئے تو ہماری پارٹی کو ووٹ کیا دیتے۔ انہوں نے اس موقع پر سماجوادی پارٹی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پارٹی میں بڑے اصلاحات کی ضرورت ہے۔
صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ ’’ہم اتر پردیش میں 11 اسمبلی سیٹوں کے لئے ہونے والے ضمنی انتخابات اکیلے ہی لڑیں گی‘‘۔
BSP Chief Mayawati on SP-BSP coalition: It's not a permanent break. If we feel in future that SP Chief succeeds in his political work, we'll again work together. But if he doesn't succeed, it'll be good for us to work separately. So we've decided to fight the by-elections alone. pic.twitter.com/VP20N4zL4Y
— ANI UP (@ANINewsUP) June 4, 2019
انہوں نے کہا ’’قنوج میں ڈمپل، بدایوں میں دھرمیندر یادو اور فیروزآباد سے اکشے یادو کی شکست نے ہمیں سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ ان قدآور امیدواروں کی شکست سے ہمیں بھی بہت افسوس ہوا ہے لیکن اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یادو اکثریتی سیٹوں پر بھی یادو سماج کا ووٹ سماجوادی پارٹی کو نہیں ملا‘‘۔
BSP Chief Mayawati on SP-BSP coalition: However, we can't ignore political compulsions. In the results of Lok Sabha elections in UP, base vote of Samajwadi Party, the 'Yadav' community, didn't support the party. Even strong contenders of SP were defeated https://t.co/jt00Ca8scE
— ANI UP (@ANINewsUP) June 4, 2019
مایاوتی نے آگے کہا ’’اکھیلیش اور ڈمپل مجھے عزت دیتے ہیں۔ ہمارے رشتے ہمیشہ کے لئے ہیں لیکن سیاسی مجبوریاں ہیں۔ اتر پردیش کے جو نتائج سامنے آئے ہیں ان سب پر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے۔
BSP Chief: Ever since SP-BSP coalition took place, SP Chief Akhilesh Yadav & his wife Dimple Yadav have given me a lot of respect. I also forgot all our differences in the interest of the nation, & gave them respect. Our relation isn't only for politics, it'll continue forever pic.twitter.com/JJcKjwApSA
— ANI UP (@ANINewsUP) June 4, 2019
واضح رہے اس سے قبل بی ایس پی نے پیر کو لوک سبھا کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیا تھا۔ اس اجلاس میں بی ایس پی عہدیداران اور ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی تھی اور اجلاس کے بعد مایاوتی نے کہا تھا کہ اتحاد کو سماجوادی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ واضح رہے ملائم سنگھ یادو اس اتحاد کے حق میں نہیں تھے۔
– Source بشکریہ قومی آواز بیورو—
