نہایت رنج و غم کے ساتھ یہ اطلاع دی جا رہی ہے کہ دیرینہ کرم فرما اور اردو دُنیا کی مقبول عام شخصیت،ماہر براڈ کاسٹر، صحافی، شاعر،ادیب اور معروف ناظم مشاعرہ اسلم فرشوری نے آج صبح سات بجے حیدرآباد میں داعی اجل کو لبیک کہا۔انا للہ و انا الیہ راجعون،

دعا ہے کہ اُن کی شریک حیات ممتاز افسانہ نگار محترمہ شبینہ فرشوری ، بیٹے بیٹیوں اور دیگر پسماندگان کو صبر جمیل عطا ہو،آمین!
وہ بہت عمدہ شاعر تھے اور ان کی نعتیہ شاعری کا ایک مجموعہ ” رحمتہ اللعالمین ” کے نام سے 2014 میں شائع ہوا تھا۔ وہ حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے اور وہیں تعلیم حاصل کی۔ آل انڈیا ریڈیو اورای ٹی وی اردو کے لئے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
تمہارے جوروستم کا حساب لکھنا ھے
سوال جو بھی اٹھیں گے جواب لکھنا ھے
یہ دور اچھا ھے حالات بھی قیادت بھی
یہ جھوٹ لکھناھےاور بےحساب لکھناھے
یہ بات سوچ کے تھرا رہا ھے میرا قلم
نہ جانے کتنوں کو عالی جناب لکھنا ھے
اس طرح کی اطلاع محترم معصوم مرادآبادی نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر آج صبح دی ہے ۔