نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے مالوا علاقہ کے شاجا پور ٹاون میں ایک پالی ٹیکنک کالج کی خاتون لیکچرر پھوٹ پھوٹ کر روپڑی اور اکھل بھارتی ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کارکنوں سے گزارش کی کہ وہ اُسے ہراساں نہ کریں۔
امتحان میں سختی برتنے پر اسے نشانہ بنایا جارہا تھا۔ ایک وائرل ویڈیو میں گورنمنٹ پالی ٹیکنک کالج کی گائتری سنگھ کو منگل کے روز کالج پرنسپل کے دفتر نے ہاتھ جوڑ کر اے بی وی پی کارکنوں سے معافی مانگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
اے بی وی پی کارکن، آرام سے کرسیوں پر بیٹھے ہوئے پرنسپل کے ساتھ بحث و تکرار کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ خاتون لیکچرر قریب ہی کھڑی ہوئی تھی اور ان سے معافی مانگ رہی تھی۔اِس ویڈیو میں گائتری سنگھ کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ برائے مہربانی مجھے معافی کردیں اور مجھے ذہنی طور پر ہراساں نہ کریں۔ میں آپ لوگوں سے معافی مانگتی ہوں۔ میں اس ٹاون میں اکیلی رہتی ہوں اور آپ لوگ مجھے ہراساں کررہے ہیں۔
لیکچرر کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ یہ سراسر ہراسانی ہے۔ گنیش پوجا کے نام پر چندہ مانگا جاتا ہے۔ بھوپال کے ایک صحافی کاشف ککوی کی جانب سے پوسٹ کئے گئے ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس لیکچرر پر امتحانات میں سختی برتنے کا الزام ہے۔ ککوی نے ایکس پر ہندی میں لکھا ”یہ مدھیہ پردیش میں شاجا پور پالی ٹیکنک کالج کی لیکچرر گائتری سنگھ ہے۔