لنچنگ نہیں پولیٹیکل مرڈر ہورہا ہے، حکومت ٹھوس اقدامات کے ساتھ ہوش کے ناخن لے : مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی
مالیگاوں(خیال اثر ) ملک میں جاری ہجومی تشدد کے خلاف جمعیت علماء مالیگاؤں مدنی روڈ کے زیر اہتمام یکم جولائی بروز پیر کو شہر کے سبھی مسالک، مکتبہ فکر و سیاسی جماعتوں کے تائید و حمایت سے تاریخی قلعہ سے ریلی نکالی گئی جس کی قیادت جمعیت علماء مالیگاؤں مدنی روڈ کے صدر *مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی صاحب* فرما رہے تھے آپ کے علاوہ ملی دینی و سیاسی جماعتوں کے نمائندے بطور مہمان شریک رہے اعلان کے مطابق ریلی صبح ساڑھے دس بجے تاریخی قلعہ سے نکل کر خیابان نشاط چوک، حسینی چوک، باب اشرف ( خانقاہ اشرفیہ)، امن چوک، مولانا ابوالکلام آزاد روڈ، سلیمانی چوک، مشاورت چوک، محمد علی روڈ، پیری چوک، قدوائی روڈ ہوتے ہوئے شہیدوں کی یادگار پر جلسہ میں تبدیل ہوگئی اس درمیان میں جگہ جگہ چوک چوراہوں پر بڑی تعداد میں اہلیان شہر ریلی میں شامل ہوتے گئے
جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو آگاہ کیا ہجومی تشدد پر روک لگائے اُنکے بعد جمعیت علماء کے صدر مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی صاحب نے خطبہ صدارت دیتے ہوئے کہا ہندوستان کے دستور نے ملک میں بسنے والوں کو اپنی مذہبی آزادی کے ساتھ ملک میں رہنے کی اجازت دی ہے، ملک کے دستور کی حفاظت کے امن و سلامتی کی بقاء کے لیے ریلی نکالی گئی ہے ملک کے دستور کے مطابق ملک میں ہمیں اپنا جمہوری حق ملنا چاہیے ملک کی صورتحال اتنی خراب ہیکہ لنچنگ کے معاملے میں گرفتار لوگوں کا پھول ہار ہوتا ہے پروگرام انعقاد کرکے پذیرائی کی جاتی ہے
ملک کی حکومت و حکومتی کارندے ایمانداری و دینداری سے کام لیں یہی اصل سب کا ساتھ سب کا وکاس ہوگا

مسلمان ظلم و تشدد پر یقین نہیں رکھتا اور یہ مذہب اسلام کی تعلیم بھی نہیں ہے
آخیر میں مولانا امتیاز اقبال صاحب نے مطالباتی تجویز پڑھ کر سنائی جس حاضرین ریلی نے ہاتھ اُٹھا کر تائید دی
تمام ہی حاضرین و نمائندہ افراد کی موجودگی میں ایڈیشنل کلکٹر کو میمورنڈم دیا گیا
مفتی صاحب کی دعا پر ریلی کا اختتام ہوا جلسہ کی نظامت کے فرائض مولانا عمران اسجد ندوی نے بحسن خوبی انجام دی۔