مالیگاو¿ں :27اکتوبر( نامہ نگار ) کل سہ پہر چار بجے کے آس پاس شہر کی گنجان آبادی والی غریبوں کی بستی ناگ چھاپ میں اچانک بھیانک آگ لگ جس کی لپیٹ میں آنے والے 60 سے زائد مکانات جل کر خاک ہوگئے۔اس تعلق سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے شکیل تیراک نے نمائندہ کو بتایا کہ شاٹ سرکٹ کی وجہ سے ایک مکان میں آگ لگی مگر بلی پترے اور لکڑیوں کے مکان ہونے کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی اور پوری گلی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔انھوں نے کہا کہ 4بج کر 35 منٹ پر خواجہ غریب نواز فائر اسٹیشن کو فون آیا کہ ناگ چھاپ جھونپڑ پٹی میں بھیانک لگی ہوئی ہے۔اس سے قبل کچھ افراد نے پیدل بھاگتے ہوئے جاکر اس آگ کی اطلاع اپنے نزدیکی جامعہ فائر اسٹیشن کو دی تھی مگر آگ کے بڑھ جانے سے یکے بعد دیگرے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جاتی رہی مگر آگ اتنی شیدید تھی کہ کم ہونے کی بجائے برھتی ہی جارہی تھی۔ مالیگاوں فائر بریگیڈ عملے نے اپنی جان پر کھیل کر آگ کو قابو میں کیا۔یہاں تک پڑوسی شہر سٹانہ سے بھی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں طلب کرنی پڑی۔ کل بروز سنیچر ۲۷? اکتوبر کو شام ساڑھے چار بجے کا وقت شہریوں کے لئے بہت منحوس ثابت ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ ناگ چھاپ کی بستی میں باریک باریک اور تنگ گلیاں ہیں جس کی وجہ سے فائر بریگیڈ عملے کو آگ بجھانے میں بے حد دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ غریب مزدورمسلم آبادی پر مشتمل ناگ چھاپ جھونپڑ پٹی میں تادم تحریر ماتم مچا ہوا ہے۔آگ کی تپش کے ساتھ ساتھ اندھیرے میں غرق بستی سے مسلسل رونے کی آوازیں آرہی ہیں۔کئی گھروں کے معصوم بچے لاپتہ ہیں۔خواتین اور چھوٹے بچوں کو عارضی طور پر پاس کے ہال میں رکھا گیا۔شہر و اطراف کے نوجوان راحت رسانی کے کام میں موجود ہیں۔شام سے ہی کارپوریشن کی جانب سے پینے کے پانی پائپ کھول دیا گیا ہے۔اس آگ سانحہ میں ایک اندازے کے مطابق لاکھوں کے مالیت کا نقصان ہوا ہے۔ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ جس وقت آگ شباب پر تھی پڑوس کی عائشہ مسجد ،بقرعیدی حاجی مسجد،مکہ مسجد میں اذانیں دی گئیں۔ شہر میں افواہوں کا ماحول گرم ہے۔ سوشل میڈیا ، واٹس ایپ اور انٹرنیٹ پر فوٹو ، وڈیو کے ساتھ کئی طرح کے خبریں آرہی ہے۔ اس آتشزدگی میں 30 سے زائد گیس سلینڈر پھٹنے کی اطلاع ہے۔ اس بستی میں تقریبا دو سو سے زائد مکانات ہیں۔ سو شل ورکروں، سیاسی لیڈران اور مقامی لوگ مدد کیلئے مسلسل کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ مدد رسانی کے دوران کئی افراد کو جسم کی مخلتف حصوں میں چوٹیں آئیں ہیں۔ آگ لگنے کے بعد افراتفری کا ماحول شہر دیکھا جارہا ہے۔ متاثرین میں خاص کر عورتیں پریشان ہیں۔شب گزاری کا مسلہ ان کے لئے سخت امتحان کی گھڑی بن کر سامنے کھڑا ہے۔ اس مصیبت کی گھڑی میں مولانا سید محمد امین القادری نے شہریان سے گذارش کی ہے کہ بلاوجہ اس جگہ کھڑے نہ رہیں بلکہ دعاو¿ں کا نظم کریں۔ راحت کاری دستے کو اپنا کام کرنے دیں۔ متاثرین کی مدد کے ساتھ ان کے کھانے پینے اور دیگر ضروریات کر نظم کریں۔ مفتی محمد اسماعیل قاسمی نے موقع پر پہنچ کر لوگوں سے مدد کی اپیل کی اور دعا کا اہتمام بھی کیا۔ متاثرین میں عورتوں اور گم شدہ بچوں کیلئے ان کی رابطہ آفس پر طعام و رہائش کے انتظام کا اعلان بھی کیا۔ ناگ چھاپ جھوپڑپٹی کے متاثرین کو فوری طور پر متبادل مکان دینے کیلئے کارپوریشن کی ہنگامی مہا سبھا منعقد ہوئی جس میں میونسپل میئر شیخ رشید نے اپنے اختیارات خصوصی کا استعمال کرتے ہوئے ارجنٹ ایجنڈا جاری کرکے مالیگاو¿ں میونسپل کارپوریشن کی ہنگامی جنرل بورڈ میٹنگ(مہا سبھا)کا انعقاد کیا۔