‘لو جہاد’ اور جبری مذہب تبدیلی پر لگام؛ 7 سال تک قید کی تجویز

ممبئی:** ریاست مہاراشٹر میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران جبری مذہب تبدیلی کے معاملات سامنے آنے کے بعد مہایوتی حکومت نے ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ ریاستی حکومت نے **مہاراشٹر مذہبی آزادی ایکٹ 2026** کے نئے قانون کے مسودے کو منظوری دے دی ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت کسی کو زبردستی یا لالچ دے کر مذہب تبدیل کروانے پر **سات سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ** عائد کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔

ریاست میں اس وقت بجٹ اجلاس جاری ہے۔ اجلاس کے دوران مہاراشٹر مذہبی آزادی ایکٹ 2026 پر بحث بھی کی گئی۔ اس کے بعد بی جے پی کے رہنما اور وزیر **نتیش رانے** نے میڈیا کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے اس قانون کے مسودے کو منظوری دے دی ہے۔

اب اس بل کو **مہاراشٹر اسمبلی اور قانون ساز کونسل** میں پیش کیا جائے گا۔ دونوں ایوانوں سے منظوری ملنے کے بعد اسے مزید منظوری کے لیے آگے بھیجا جائے گا۔ صدرِ جمہوریہ کی منظوری کے بعد یہ قانون ریاست میں نافذ ہوگا۔

**سخت سزا کی تجویز**

ریاست کے بعض علاقوں میں جبری یا لالچ دے کر مذہب تبدیل کروانے کے واقعات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اسی پس منظر میں بی جے پی کے رہنماؤں نے “لو جہاد” کے معاملے پر ریاست بھر میں **ہندو بیداری مارچ** بھی نکالے تھے۔ کئی برسوں سے اس حوالے سے سخت قانون بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

اس مقصد کے لیے **فروری 2025 میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم** کی گئی تھی، جس نے قانونی مطالعہ کے بعد اس قانون کا مسودہ تیار کیا۔

اگر یہ بل قانون کی شکل اختیار کرتا ہے تو **زبردستی یا لالچ دے کر مذہب تبدیل کروانے والے فرد یا ادارے کو سات سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ** ہو سکتا ہے۔

اگر چاہیں تو میں اسی خبر کو **ٹی وی نیوز بلیٹن اسٹائل، مختصر بریکنگ نیوز یا ہیڈ لائن فارمیٹ** میں بھی تیار کر سکتا ہوں، جو آپ کے چینل کے لیے زیادہ موزوں ہوگا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading