ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس (IRGC) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تل ابیب اور مرکزی اسرائیل کے مختلف علاقوں پر ڈرون اور میزائلوں کے مشترکہ حملے کیے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں خیبر شکن نامی میزائل بھی استعمال کیا گیا، جس میں کلسٹر وارہیڈ نصب تھا۔
اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں دکھائی دیتا ہے کہ کلسٹر بم فضا میں پھٹنے کے بعد متعدد چھوٹے بموں کی شکل میں مرکزی اسرائیل کے ایک وسیع علاقے میں گرتے ہیں۔ تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
https://www.facebook.com/share/r/1WztJh88gm/
خیبر شکن کا مطلب “قلعہ شکن” ہے۔ یہ ایران کا نسبتاً جدید اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس میزائل ہے جو سن 2022 سے فعال ہے۔ اس میزائل کی خاص بات اس کا مینوور ایبل وارہیڈ ہے، جو زمین کی طرف اترتے وقت کھل جاتا ہے اور اس میں سے تقریباً 20 چھوٹے بم (سب میونیشنز) خارج ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک میں تقریباً 2.5 کلوگرام (5.5 پاؤنڈ) دھماکہ خیز مواد ہوتا ہے۔جب یہ بم ایک بڑے علاقے میں پھیل جاتے ہیں تو یہ خاصی بڑی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ کلسٹر ہتھیاروں کے استعمال پر ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت پابندی عائد ہے، لیکن یہ پابندی صرف ان ممالک پر لاگو ہوتی ہے جنہوں نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہوں۔ ایران اور اسرائیل دونوں نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔