24-24سیٹوں پرالیکشن لڑنے کامعاہدہ
نئی دہلی:(ایجنسیز) اپریل ۔مئی 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی اور راشٹروادی کانگریس پارٹی میں مفاہمت ہوچکی ہے دونوں پارٹیاں ریاست مہاراشٹر کی 48 سیٹوں میں سے 24-24 پراپنے امیدوار کھڑے کریں گی ۔ بدھ 2جنوری کو نئی دہلی میں راشٹروادی کانگریس کے صدر شردپوار اورکانگریس مہاراشٹر پردیش صدر اشوک راو چوہان کے درمیان گفت وشنید کے بعد یہ انتخابی معاہدہ طئے پایا ہے ۔
لوک سبھا میں کانگریس پارٹی کے لیڈر ملکاارجن کھرگے نے اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ اس سمجھوتے پرکانگریس کور کمیٹی نے اپنی مہرثبت کردی ہے ۔کانگریس خود 26سیٹوں پر مقابلہ کرنے کی خواہشمند تھی اور راشٹروادی کو 22سیٹیں دینا چاہتی تھی جس کی وجہ سے سمجھوتہ نہیں ہوپارہاتھا لیکن اس دوران شردپوار نے کانگریس قومی صدر راہول گاندھی سے تین بار نئی دہلی میں ملاقاتیں کیں اوراپنی بات رکھی تھی جس کے بعد راہول گاندھی نے سیٹوں کی تقسیم کے معاملے کوحل کرنے کااختیار شردپوار کودے دیاتھاا س کے بعد مذکورہ معاہدہ طئے پایا ۔اس معاہدہ سے بی جے پی۔شیوسینا کو زبردست جھٹکا لگا ہے کیونکہ ریاست کے سیکولر ووٹوں کی تقسیم ہونے کابہت کم امکان باقی رہے گیا ہے ۔
شردپوار نے بتایا کہ وہ اپنے حصے کی 24سیٹوں میںسے اپنی ہم خیال ریپبلکن پارٹی آف انڈیا (امبیڈکرگروپ) ‘مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی ‘کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ‘ بہوجن ویکاس اگھاڑی ‘کسان مزدور پارٹی ‘ راجیوشٹی کی سوابھامانی شیتکر سنگھٹنا کو سیٹیں دینے کیلئے تیار ہیں ۔ اور ان پارٹیوں کے قائدین سے گفتگو جاری ہے ۔ دریں ا ثناءراشٹروادی کے پرفل پٹیل نے صحافیوں کوبتایااکہ 24-24 کافارمولہ طئے ہوچکا ہے اب صرف رسمی اعلان باقی ہے مہاراشٹر میں کانگریس۔راشٹروادی کامقابلہ بی جے پی ۔شیوسینا اتحاد سے ہے ۔ ریاست کامراتھا مسلم او ردلت ووٹ کانگریس ۔این سی پی کے ساتھ جاسکتا ہے۔ اس طرح کا امکان ہے ۔