لوک سبھا : شہریت ترمیمی بل پیش کرنے کی حمایت میں پڑے 293 ووٹ ، مخالفت میں 82 دیکھئے …

نئی دہلی : مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کے روز بھاری ہمگامے کے بیچ لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل پیش کیا ۔ وہیں لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل کے پیش ہونے کی حمایت 293 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں 82 ووٹ پڑے ۔

اس سے پہلے کانگرس سمیت کئی جماعتوں نے شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کی اور انہوں نے ایوان میں ہنگامہ کرنا شروع کردیا ۔ ہنگامے کے درمیان ہی امت شاہ نے بل پیش کرتے ہوئے اپنی بات رکھی اور کہا کہ یہ اقلیتوں کے خلاف نہیں ہے ۔

اپوزیشن کی پرزور مخالفت کے درمیان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں آج شہریت ترمیمی بل 2019 پیش کر دیا۔ اس بل میں افغانستان،پاکستان اور بنگلہ دیش سے مذہب کی بنیادپر استحصال کی وجہ سے ہندوستان میں پناہ لینے والے ہندو،سکھ،عیسائی ،پارسی ،بودھ اورجین طبقےکے لوگوں کو شہریت دینے کا التزام کیا گیا ہے۔

کانگریس، ترنمول کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی،سماجوادی پارٹی،انڈین یونین مسلم لیگ وغیرہ اپوزیشن پارٹیوں نے اس بل کو مذہب کی بنیاد پر شہریت طے کر کے آئین کے بنیادی مقصد کو مجروح کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس سے آئین کے آرٹیکل 5 ،10، 14، 15اور 26کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سے آئین کے کسی بھی آرٹیکل کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ان تین ملکوں (افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش) میں اسلام مذہب ہے اور مذہب کی بنیاد پر استحصال غیر اسلامی طبقوں کا ہی ہوتا آیا ہے۔اس لئے ایسے چھ طبقوں کو ’عقلی درجہ بندی ‘ کے تحت شہریت دینے کا التزام کیاگیا ہے جبکہ مسلم طبقے کے لوگ حالیہ ضابطوں کے مطابق ہی شہریت کی درخواست کرسکیں گے اور ان پر اسی کے مطابق غور بھی کیاجائےگا۔

وزیرداخلہ کے جواب سے اپوزیشن مطمئن نہیں ہوئی اور اس نے بل پیش کرنے کی تجویز پر ووٹوں کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔ جب ووٹوں کی تقسیم کا عمل ہوا تو اس میں 82کے مقابلے 293ووٹوں سے شہریت ترمیمی بل 2019 پیش کیے جانے کو منظوری مل گئی۔ اب اس بل پر لوک سبھا میں بحث ہوگی۔

#LokSabha #CAB #Voting #293And82 #UrduNews

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading