لاہور‘پاکستان میں یا بھارت میں رہے گا‘14اگست47ءتک شہریان واقف نہیں تھے » تقسیم کے حقیقی درد کااظہار‘ ادب کے معرفت ہی ہوسکا :ڈاکٹرموہن ‘دہلی

ناندیڑ: 12 فروری( ورق تازہ نیوز)سال 1947ءمیں ہوئی ملک کی تقسیم ساری دنیا کےلئے ایک المناک واقعہ تھا ۔یہ زخم ابھی ہرا ہی ہے ۔ تقسیم کادرد بھارت کی مختلف زبانوں کے ادب میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے ۔ناولوں اور افسانوں میں اس درد کو بڑے اچھے انداز میں پیش کیاگیا ۔ اس طرح کے خیالات کا اظہار معروف ہندی ادیب نرندر موہن (دہلی) نے کیا ۔نرہرکروندکر پرتشٹھان ‘روپ ویدھ لائبربری‘ سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی ناندیڑ کے اشتراک سے منعقدہ جلسے سے وہ خطاب کر رہے تھے ۔جلسے کی صدارت ایس آر ٹی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹربھوسلے نے کی۔ نریندر موہن نے تقسیم کے المیہ پر ہندی اور اردو کی کہانیوں کے حوالے سے متاثر کن تقریر کی۔ اپنی تقریر میں ڈاکٹر موہن نے تقسیم کا سیاسی پس منظر تفصیلی طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ انگریزیوں نے تقسیم کے عمل کو اتنی تیزی سے پائے تکمیل کو پہنچایاکہ لاہور کے شہریان کو 14اگست 1947 تک یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کا شہر پاکستان میں رہے گا یا ہندوستان میں !تقسیم کے باعث رحم‘ ہمدردی محبت اور امن کی قدر یںپامال ہوئیں۔ اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ تقسیم ایک بہت بڑی غلطی تھی جسے اب کبھی بھی نہیں دورہ جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ اردوقدرآورافسانہ نگار سعادت حسن منٹو‘ ابن انشا‘ عصمت چغتائی ‘گلزاربھیسم سہانی وغیرہ کی کہانیوں میں تقسیم کو حقیقت نگاری کے ساتھ بیان کیا ہے۔ انہوں نے نئی نسل کو ہدایت کی کہ وہ تقسیم کی ہمیشہ میں مخالفت کریں۔ پروگرام کی غرض و غایت ڈاکٹر دتہ بھگت نے بیان کی،۔ ڈاکٹر موہن کا تعارف ڈاکٹر شوبھا دیش پانڈے نے کروایا۔ نظامت ڈاکٹر ارونا شکلا نے کی۔پروگرام میں کمل کشور کدم‘ شیش راو¿ مورے‘ ڈاکٹر پربھاکر دیو ‘دیپ ناتھ پکتی‘ وشواس کروندکر‘ڈاکٹر شرینواس پانڈے کے علاو ہ کئی ادب دوستوں نے شرکت کی

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading