"لاڑکی بہنوں کے بھائی، شوہر اور باپ کو برباد کر رہی ہے یہ حکومت" — ڈاکٹر جتیندر آوہاڈ کا شراب پالیسی پر شدید حملہ
تھانے، 13 جولائی – (آفتاب شیخ)
"جس سرزمین کو سنتوں نے سنوارا، اُسے شرابی بنانے پر تُلی ہے یہ حکومت!" — ان الفاظ کے ساتھ راشٹروادی کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کے قومی جنرل سیکریٹری اور چیف ترجمان ڈاکٹر جتیندر آوہاڈ نے مہاراشٹر حکومت کی نئی شراب پالیسی پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔
ڈاکٹر آوہاڈ نے کہا کہ ریاستی حکومت مالی خسارہ دور کرنے اور آمدنی بڑھانے کے نام پر تقریباً 328 نئی شراب کی دکانوں کو لائسنس جاری کرنے جا رہی ہے، جو دراصل "لاڑکی بہن یوجنا" کی لاگت کو پورا کرنے کی ایک ظالمانہ چال ہے۔ ان کے مطابق، یہ منصوبہ دراصل مہاراشٹر کی بہنوں کے بھائیوں، شوہروں اور باپوں کو نشے میں دھکیلنے کی ایک سازش ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 1974 میں جب اسی طرح کا فیصلہ لیا گیا تھا، تو مرنال گورے، اہلیابائی رنگنیکر، مدھو ڈنڈوتے جیسی خواتین نے ریاست بھر میں احتجاج کی لہر پیدا کی تھی، جس کے دباؤ میں آکر حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑا تھا۔
ڈاکٹر آوہاڈ نے الزام لگایا کہ آج جن 47 کمپنیوں کو لائسنس دینے کی تیاری ہو رہی ہے، ان کے ڈائریکٹروں نے منترالیہ کی پہلی منزل سے چھٹی منزل تک اپنے "قدم جما لیے ہیں"۔ انہوں نے کہا، "پہلے جو لائسنس 15 کروڑ روپے میں بیچے جا رہے تھے، اب وہی نئے لائسنس صرف ایک کروڑ روپے میں بیچے جا رہے ہیں۔"
انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا، "اب اس حکومت کو میکڈونلڈ اور جانی واکر کے نام سے جانا جائے گا، کیونکہ اسے عوام کی فلاح سے زیادہ شراب کی فروخت کی فکر ہے۔" انہوں نے زور دیا کہ "مہاراشٹر سنتوں کی دھرتی ہے، بدماشوں کی نہیں۔"
ڈاکٹر آوہاڈ نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جب قانون کے مطابق چھت پر شراب بیچنا منع ہے تو پھر تھانے کے یئور کے سنجے گاندھی نیشنل پارک جیسے محفوظ علاقے میں شراب کیسے فروخت ہو رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ "آبکاری محکمہ خاموشی سے رشوت کھا رہا ہے، لیکن عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے والا ہے۔"
انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا، "اگر لوگوں کو پانی نہ ملے تو چلے گا، مگر حکومت چاہتی ہے کہ ہر گھر میں شراب پہنچے۔ مہاراشٹر کو فروخت کرکے خزانہ بھرنے والی اس حکومت کو اب گیٹ وے آف انڈیا بھی بیچ دینا چاہیے۔"
آخر میں ڈاکٹر آوہاڈ نے عوام سے اپیل کی کہ "جیسے 1974 میں عوامی طاقت نے شراب پالیسی کو روکا تھا، ویسے ہی اب ایک بار پھر بہنوں کو سڑک پر آنا پڑے گا، تاکہ آنے والی نسلوں کو شراب سے پاک مہاراشٹر مل سکے۔"