عامر خان کی فلم ’لال سنگھ چڈھا‘ اور اکشے کمار کی فلم ’رکشا بندھن‘ رواں ماہ 11 تاریخ کو ریلیز ہوئیں۔بڑی سٹار کاسٹ والی ان دونوں فلموں سے باکس آفس کو بہت زیادہ توقعات تھیں لیکن دونوں فلمیں فلم بینوں پر کچھ اچھا تاثر نہیں قائم کر سکیں اور دونوں ہی پہلے دن سے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کمزور ثابت ہوئیں۔جہاں عامر خان کی فلم ’لال سنگھ چڈھا‘ نے پہلے دن ساڑھے گیارہ کروڑ روپے کمائے وہیں اکشے کمار کی ’رکشا بندھن‘ صرف 8 کروڑ کما پائی۔مسلسل چار دن تعطیلات رہنے کے باوجود دونوں فلمیں شائقین کا اس انداز سے پیار حاصل نہیں کر سکیں جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
فلمی صنعت کی نیندیں اڑ گئیں
دونوں فلموں کی کمائی کا ذکر کرتے ہوئے معروف فلمی تجزیہ نگار اور نقاد گریش وانکھیڑے کہتے ہیں کہ ’لال سنگھ چڈھا‘ کی آٹھ دنوں کی کل کمائی اکاون کروڑ روپے سے کچھ ہی زیادہ ہے، جب کہ ’رکشا بندھن‘ کی سینتیس کروڑ تیس لاکھ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’عامر خان کی فلم پورے چار سال بعد آئی ہے، اس کے باوجود وہ تھیٹر میں جادو نہیں جما سکے۔‘
گریش وانکھیڑے نے مزید کہا، ’عامر کی سپر فلاپ فلم ’ٹھگس آف ہندوستان‘ نے بھی پہلے دن باون کروڑ کا بزنس کیا تھا لیکن ’لال سنگھ چڈھا‘ آٹھ دنوں میں بھی یہ ہندسہ عبور نہیں کر پائی ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’دیگر فلمساز بھی ان فلموں کی ناکامی سے بہت افسردہ ہیں۔ اگر فلمیں ہٹ ہو جائیں تو آنے والی فلموں سے لوگوں کی امیدیں بڑھ جاتی ہیں، نئی فلمیں بنتی ہیں۔ جب کہ اگر فلموں کی حالت ایسی رہے تو پھر امیدیں تھوڑی ٹوٹ جاتیں ہیں۔‘
وانکھیڑے نے امید ظاہر کی کہ ’آنے والے دنوں میں ’براہمسترا‘، ’وکرم۔ویدھا‘، ’پٹھان‘ جیسی بڑے بجٹ کی فلمیں بھی آنے والی ہیں، شاید وہ ہی اس خلا کو پُر کر سکیں۔‘اس فلم کے حقوق حاصل کرنے کے لیے عامر خان کو تقریباً ایک دہائی لگ گئی
’براہمسترا‘ میں رنبیر کپور، امیتابھ بچن، ناگ ارجن اور عالیہ بھٹ جیسے ستارے کام کر رہے ہیں۔ جبکہ رہتیک روشن ’وکرم ویدھا‘ اور شاہ رخ خان ’پٹھان‘ میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
فلم کو کب فلاپ کہا جاتا ہے؟ کیا اس کا کوئی معیار ہے؟ کیا یہ فلم کی کمائی سے ماپا جاتا ہے؟
فلمی نقاد گریش وانکھیڑے کہتے ہیں کہ ’ہاں۔ فلم فلاپ اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنی لاگت یعنی پروڈکشن کی لاگت سے کم کماتی ہے۔ ایسی حالت میں اسے فلاپ کہا جاتا ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ او ٹی ٹی کے حقوق یعنی ڈیجیٹل رائٹس، ٹی وی کے لیے سیٹلائٹ رائٹس، اوورسیز، تھیٹر ہر چیز کو دیکھا جاتا ہے۔
وانکھیڑے کہتے ہیں کہ ’فلم لال سنگھ چڈھا کو بنانے میں 180 کروڑ روپے کی لاگت آئی تھی۔ لیکن اب تک اس کا کولیکشن صرف پچاس کروڑ ہی رہا ہے۔ اگر یہی رجحان رہا تو آنے والے دنوں میں یہ اسی کروڑ سے زیادہ ہو جائے گی۔ ایسے میں اگر فلم ڈسٹری بیوٹر کا حصہ نکال دیں ہے اور جی ایس ٹی کم کر دیں تو فلمساز کو مشکل سے چالیس کروڑ روپے ملیں گے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’فلم رکشا بندھن بھی 70-80 کروڑ کے لگ بھگ بنی ہے لیکن کمائی بہت کم ہوئی ہے۔ ڈسٹری بیوٹر کا حصہ اور جی ایس ٹی ہٹانے کے بعد بہت کم کولیکشن ہاتھ آئے گا۔‘
’اس لیے اگر ان کی کمائی کو سامنے رکھا جائے تو دونوں فلمیں ہی فلاپ ہیں۔‘
عام خان کی فلم کا بائیکاٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟
’لال سنگھ چڈھا‘ ریلیز سے قبل ہی تنازعات کا شکار ہو گئی تھی۔ سوشل میڈیا پر عامر خان کی اس فلم کے لیے #BoycottLaalSinghCaddha ہیش ٹیگ چلایا جا رہا تھا۔ کچھ لوگ عامر خان کے پرانے ’متنازع‘ بیانات کو بھی دوبارہ شیئر کر رہے تھے۔
عامر خان نے ایک بار ایک بیان میں کہا تھا کہ انڈیا میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے ان کی اہلیہ اپنے ملک میں رہنے سے ڈرتی ہیں۔
اس معاملے پر لوگ سوشل میڈیا پر عامر خان کی فلم کے بائیکاٹ کی اپیل کے ساتھ ساتھ انھیں غدار کہہ کر ٹرول بھی کرتے رہے۔
کیا بائیکاٹ کا ٹرینڈ فلم کو متاثر کر رہا ہے؟
فلمی نقاد اور سینیئر صحافی رام چندرن سری نواسن کہتے ہیں کہ ’بائیکاٹ کے اس رجحان کو پہلے بھی لوگوں نے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا، ایسی اپیل ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہے۔ چاہے یہ فلم ’پدماوت‘ ہو یا دیپیکا پڈوکون کی ’چھپاک‘۔
سری نواسن کہتے ہیں کہ جب ’لال سنگھ چڈھا کے بائیکاٹ کی کالیں آئیں تو لوگوں کا خیال تھا کہ یہ محض ایک دھوکہ ہے، اس لیے شروع میں اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، لیکن سچ یہ ہے کہ اگر فلم کا معیار تھوڑا سا بھی خراب ہو اور بائیکاٹ کا رجحان شروع ہو جائے، تو یہ ضرور متاثر کرتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’لوگوں کے ذہنوں میں یہ خوف بھی ہے کہ اگر وہ تھیٹر گئے اور کوئی ہنگامہ ہو جائے تو ایسی صورت حال میں وہ کیا کریں گے؟ ملک میں اس خوف کی وجہ سے بھی بہت سے لوگ اس فلم کو دیکھنے نہیں گئے۔‘
اس کے ساتھ سری نواسن یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ فلم ملٹی پلیکس شائقین کے لیے بنائی گئی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ لوگوں کو یہ فلم پسند نہیں آئی۔ یہ فلم عوام کے لیے نہیں بنائی گئی۔ لال سنگھ چڈھا ملٹی پلیکس کے شائقین کے لیے بنائی گئی ہے۔ وہ بھی بڑے ملٹی پلیکس اور قومی چینز کے لیے جہاں فلم کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہے۔‘
رام چندرن سری نواسن کہتے ہیں کہ ’صرف عامر ہی نہیں بلکہ شاہ رخ خان، سیف علی خان کی فلموں کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔ وہ جو فلمیں یا ویب سیریز کر رہے ہیں اس کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔‘