مرکزی حکومت کے پردھانمنتری مفت اجولا گیاس اسکیم پر سوالیہ نشان.. کسانوں اور طلباء کو مشکلات درپیش..
لاتور(محمدمسلم کبیر) مرکزی حکومت کی جانب سے بڑے زور و شور کے ساتھ اعلان کردہ پردھان منتری مفت اجولا گیاس اسکیم ہنوز تیس فیصدی خاندانوں تک پہنچ نہیں سکی.اس کی مثال لاتور ضلع کے سپلائی ڈپارٹمنٹ سے موصولہ ایک رپورٹ سے واضح ہوگئی ہے.دستیاب اطلاع کے بموجب لاتور ضلع میں ماہ اکتوبر 2018 کے اواخر تک 4/ لاکھ83 ہزار 406 راشن کارڈ دہندے ہیں.ان میں سے 3/ لاکھ 58 ہزار 203 کارڈ دہندے گیاس کنکشن سے مستفید ہورہے ہیں.پواس مشین یا گیاس تیل کے حصول کے دوران مستفید راشن کارڈ دہندوں کے کارڈس میں درج کسی بھی فرد کے نام پر گیاس کنکشن کے نہ ہونے کا حلف نامہ لیا جارہا ہے. اس لحاظ سے لاتور ضلع میں ہنوز 1/ لاکھ 34 ہزار 258 راشن کارڈ دہندے گیاس کنکشن سے محروم رہنے کی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے. گیاس تیل تقسیم کرنے کے دوران راشن کارڈ دہندوں کے کارڈس میں موجود کسی بھی فردکے نام پرگیاس کنکشن نہیں ہے اس طرح کاحلفنامے کالزوم کئے جانے کے بعدکارڈ دہندوں نے حلفنامے جمع کردئے.حکومت مہاراشٹر کی جانب سے شعبہ عوامی سپلائی کے توسط سے فراہم کئے جانے والے امدادی قیمت کا گیاس تیل صرف گیاس کنکشن نہ رکھنے والے کارڈس کو ہی تقسیم کیا جاتا ہے. امدادی قیمت کا گیاس تیل مستحقین تک پہنچانے کو یقینی بنانے اور کوئی بھی مستحق اس سے محروم نہ رہے اس لئے امدادی قیمت پر کارڈ دہندوں کو گیاس تیل تقسیم کرتے وقت پواس مشین کا استعمال ناگزیر ہے.لہذہ حکومت نے پواس مشین کے استعمال کو لازمی کیا ہے تاکہ اس تقسیم کاری میں کالابازاری اور بدعنوانی نہ ہو. اس سے قبل اس طرح کی پواس مشینس راشن دکانوں پر پہلے سے نصب کی جاچکی ہیں اور اسی بنیاد پر کارڈ دہندوں کو اناج تقسیم کیا جارہا ہے. لیکن اب گیاس تیل ہاکرس اور ایحنٹس پر بھی اس کالزوم ہونے سے ایجنٹس اور ہاکرس میں کافی پریشان نظر آرہے ہیں.چونکہ گیاس تیل کی کالابازاری عام ہے.جن میں انتظامیہ کا بڑا ہاتھ ہے. اب چونکہ راشن کارڈ دہندوں سے گیاس کنکشن نہ ہونے کا حلفنامہ لے کر ہی گیاس تیل تقسیم کرنے کے احکامات ہیں.اور ان حلف ناموں کی تحقیقات شعبہ محصول کے تلاٹھی اور دیگر افسران کے تحت گھر گھر پہنچ کر کئے جانے اور حلفنامے کے مغائر خاطی پائے جانے والے راشن کارڈ دہندے پر تعزیرات ہند کے تحت کاروائی کرنے کے بھی احکامات دئے گئے ہیں.لاتور ضلع میں راشن کارڈ دہندوں کی تعداد 4لاکھ 83ہزار 406 ہے.جن میں سے 3/ لاکھ 58ہزار203 خاندان گیاس کنکشن سے مستفید ہیں.ماباقی 1/ لاکھ 34ہزار 258 کارڈ دہندے خاندان ہنوز گیاس کنکشن سے محروم ہیں. یہ بات لاتور ضلع سپلائی شعبے سے ملی اطلاعات سے واضح ہوئی ہے. اس سے صاف ظاہر ہے کہ بڑے پیمانے پر معلنہ پردھان منتری مفت اجولا گیاس اسکیم کی کامیابی پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے. ملک کو دھویں سے پاک کرنے کا وزیر اعظم نریندر مودی کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے.کسانوں اور طلباء کو درپیش مشکلات… لاتور ضلع کے دیہی علاقوں میں ہمیشہ برقی سربراہی مسدود رہتی ہے ان دیہاتوں میں اس دوران کھیتوں میں آبی سربراہی کےلئے انجن میں گیاس تیل کا استعمال کیا جاتا ہے.اور رات میں گھروں میں چراغوں کو جلایا جاتا ہے. اس وقت گیاس تیل کی اشد ضرورت ہوتی ہے.اب اگر ان دیہاتی خاندانوں کو گیاس کنکشن کےےنام پر گیاس تیل سے محروم کیا جاتا ہے تو انھیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا.دوسری طرف لاتور ضلع کے مختلف علاقوں سے حصول تعلیم کے لئے آنے والے طلباء کرائے کے کمروں میں رہتے ہیں اور اپنے دونوں وقت کا اسٹوہ پر کھانا اپنے ہاتھوں سے پکاتے ہیں انھیں اسکول یا کالج کے شناختی کارڈ بتانے پر ایجنٹ یا ہاکر گیاس تیل دیا کرتے تھے اب ان طلباء کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا. جس سے عام اور غریب طلباء کو تعلیم حاصل کرنا بھی دشواری کا سبب بن سکتا ہے.