لاتورکے موضع راٹھوڑہ میں 25/ فروری سے ڈیڑھ ہزار سادھوؤں کا قیام…  مرکز نظام الدین پر دن رات ایک کرنے والی میڈیا یہاں خاموش کیوں?

لاتور(محمدمسلم کبیر) یہ بات قابل تعریف ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ملک میں تیزی سے پھیل رہے کورونا جراثیم کے تدارک کے لئے مختلف تدابیر اورحکمتیں کر رہی ہیں. شعبہ صحت، محصول، پولس انتظامیہ شبانہ روز اپنی جانوں کو خطرات میں ڈال کر ملک کو کورونا وائرس سے نجات دلانے کے لئے جنگی پیمانے پر تگ و دو میں منہمک ہیں. ان ہی تدابیر میں سے مرکزی حکومت نے 14/ اپریل تک ملک میں لاک ڈاؤن ، اور دفعہ 144 کو نافذ کیا ہے.

اضلاع اور ریاستوں کی سرحدوں کو احتیاطی طور پر بند کیا ہے تاکہ مشتبہ افراد یا گروہ کی آمد ورفت نہ ہو. ان ہی خدشات کے تناظر میں تبلیغی جماعت کے نظام الدین مرکز کا واقعہ پیش آیا.اگرچیکہ تبلیغی مرکز کی جانب سے دور دراز ممالک و ملک کی ریاستوں سے آئے ہوئے ساتھیوں کو مرکز سے ان کے اپنے مقامات کو پہنچانے کے لئے اجازت طلب کرنے کی درخواست پیش کی گئی تھی لیکن متعلقہ دفترنے اس کو نظر انداز کردیا.جس کے بعد مختلف واقعات پیش آ رہے ہیں.

ملک کے تمام شدت پسند نیوز چیانلس، پرنٹ میڈیا نے تبلیغی جماعت کو حقائق سے بعید رہ کر آڑے ہاتھ لے رہے ہیں. بلکہ کچھ چیانلس تو کورونا کو ہی جماعت سے جوڑ رہے ہیں. لیکن اس کے برعکس نلنگہ ضلع لاتور کے موضع راٹھوڑہ میں ہندوؤں کے مہانوبھو مسلک کے تقریبا 1500سادھو 20 ایکڑ اراضی پر گذشتہ 25/ فروری سے29 مارچ2020 تک منعقدہ چترماس پروگرام ميں حصہ لے کر آج تک قیام پذیر ہیں.

بتایا جارہا ہے کہ نلنگہ ضلع لاتور کے موضع راٹھوڑہ میں ہندو مذہب سے متعلقہ مہانوبھو مسلک کا ہر سال چترماس پروگرام منایا جاتا ہے.اس علاقے میں اس مسلک کے پیروکار بڑے پیمانے پر پائے جاتے ہیں.امسال اس پروگرام میں احمدنگر ضلع کے موضع جادھو واڑی کے سادھو اور سادھیکاؤں کو دعوت دے کر 25/ فروری تا 29/ مارچ 2020 تک موضع راٹھوڑہ سے 2 کلومیٹر دوری پر 20 ایکڑ اراضی میں مٹھ قائم کرکے بڑے پیمانے پر پروگرام منعقد کیا گیا تھا.چونکہ ملک میں کورونا کی وباء ، دفعہ 144 اور لاک ڈاؤن کے نفاذ سے درمیان میں ہی اس پروگرام کو منسوخ کیا گیا.تاہم اس پروگرام میں شریک تقریبا 1500 سادھو اور سادھکائیں اس ناگہانی حالات میں پھنس پڑے ہیں. ضلع انتظامیہ نے ان تمام کی ءیک خصوصی طبی ٹیم کے ذریعے طبی جانچ کروائی. اور کن کی نگرانی کے لئے سرپنچ، تلاٹھی، گرام سیوک اور ایگری اسسٹنٹ کی ٹیم تعینات کی ہے. گاؤں والوں کی جانب سے ان کے طعام کا نظم کیا گیا ہے.

اب سوال یہ ہے کہ جب تبلیغی جماعت کا مرکز نظام الدین میں طئے شدہ نظام الاوقات کے تحت پروگرام ہوا .اور اس دوران حکومت نے ناگہانی طور پر لاک ڈاؤن،دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا.تو ان حالات میں جماعت کے وکیل نے متعلقہ دفاتر سے اجازت طلب کی کہ جماعت کے مرکز میں شرکت کی غرض سے آئے تمام افراد کو ان کے مقامات تک پہنچانے کے لئے خصوصی اجازت دیں.تو ان دفاتر کی ذمہ داری تھی کہ اس درخواست پر غور و فکر کے ساتھ ان افراد کی طبی جانچ،رہائش کا نظم اور دیگر ضروری اقدامات کرنے کے لئے دہلی سرکار اور مرکزی حکومت کو بھی آگاہ کرکے کوئی راہ نکالنی چاہئے تھی تاہم اس مرکز کو ایک ایشیو بنایا گیا.

جو ابھی تک تبلیغی مرکز پر برس رہا طوفان تھما نہیں.عین اسی طرح کا واقعہ لاتور ضلع کے موضع راٹھوڑہ تعلقہ نلنگہ کا ہے.لیکن ہماری زعفران زار میڈیا(ایکٹرونک و پرنٹ)،بھگوی سوچ کے نام نہاد قائدین، زر خرید زعفرانی مسلمان لیڈروں کی توجہ ادھر نہیں گئی. مراٹھی کے صرف ایک اخبار نے اس خبر کی اشاعت کی. حالانکہ اپنے آپ کو سیکولر کہلانے لیڈروں کے بھی کثیرالاشاعت اخباروں کے نمائندے بھی منہ میں لالی پاپ ڈالے خاموش ہیں.

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading