ناندیڑ۔ ۳۰؍ جولائی (حید ر علی):قریش برادری کی جانب سے جاری ہڑتال کو آج دس دن مکمل ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دس دنوں سے شہر میں گوشت کا کاروبار مکمل طور پر بند ہے۔ اس ہڑتال کے دوران کچھ افراد موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نامعلوم مقامات سے گوشت لاکر مہنگے داموں پر پیکٹ کی شکل میں فروخت کر رہے ہیں۔حالانکہ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ گمنام طریقے سے سپلائی کیا جارہا گوشت حلال بھی ہے یا نہیں کیونکہ ہڑتال کی وجہ سے منڈیاں پوری طرح سے بند ہے اور قریش برداری کے ذمہ داران نے اجتماعی طورپر عہد کیا ہواہے کہ وہ ہڑتال کے دوران کسی بھی بڑے جانور کو ذبحہ نہیں کریں گے اور سلاٹر ہائوس بھی فی الحال مہاراشٹرا بھر میں بند ہے۔
پھر سوال یہ پیداہورہاہے کہ گمنام طریقے سے جو گوشت سپلائی کیا جارہاہے وہ حلال طریقے سے ذبحہ کیا ہواہے یاپھر کسی اور طریقوں کااستعمال کیا گیا ہے۔چوری چھپے طریقے سے گوشت کی سپلائی کرنے کی اس غیر ذمہ دارانہ حرکت پر قریش برادری کے افراد میں سخت ناراضگی پائی جا رہی ہے۔قریش برادری کے ذمہ داران نے وضاحت کی ہےکہ یہ ہڑتال شوقیہ یا خوشی سے نہیں کی جا رہی بلکہ قریش برادری کے افراد پر ہو رہے حملے ، کاروباری مسائل اور سرکاری پالیسیوں کے خلاف مجبوری کے تحت کی جا رہی ہے۔
اس کا مقصد حکومت اور انتظامیہ کی توجہ قریش برادری کو درپیش مسائل کی طرف مبذول کروانا اور پالیسیوں میں تبدیلی کا مطالبہ کرنا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح خفیہ انداز میں گوشت کی سپلائی ہوتی رہی تو ہڑتال سے جو دباؤ حکومت پر پڑ رہا ہے، وہ ختم ہو جائے گا، اور ہڑتال اپنے مقصد میں ناکام ہو جائے گی۔قریش برادری نے ایسے افراد کو خبردار کیا ہے جو ہڑتال کے متفقہ فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ طریقے سے گوشت فروخت کر رہے ہیں وہ اپنی ان حرکتوں سے باز آئیں۔اسی طرح عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس ہڑتال کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے قریش برادری کا ساتھ دیں اور وقتی طور پر گوشت کی خریداری سے مکمل گریز کریں۔
کیونکہ یہ ہڑتال قریش برادری کی شناخت، کاروباری بقا اور جمہوری حقوق سے جڑی ہوئی ہے۔عوام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ متبادل کے طور پر چکن یا مٹن کا استعمال کریں، لیکن بڑے کے گوشتکے استعمال سے مکمل پرہیز کریں تاکہ قریش برادری کی قربانی رائیگاں نہ جائے اور ان کے مسائل کا کوئی دیرپا حل نکل سکے۔