قریش برادری ناندیڑ کا اہم مشاورتی اجلاس، بڑے گوشت کے کاروبار پر جاری ناانصافی پر شدید تشویش، 19 جولائی سے غیر معینہ مدت کے بند کا اعلان

ناندیڑ۔14 جولائی (حیدر علی):ناندیڑ میں قریش برادری کی جانب سے پاکیزہ فنکشن ہال میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت چاند پاشاہ قریشی نے کی۔ اجلاس میں ضلع بھر سے قریش برادری کے رہنماؤں، علماء کرام اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد مہاراشٹر میں بڑے گوشت کے کاروبار سے جڑے قریش برادری کے افراد کے ساتھ جاری ناانصافیوں کے خلاف اجتماعی لائحۂ عمل طے کرنا تھا۔اجلاس میں جمعتہ القریش کے ضلع صدر عظیم قریشی، شہر صدر خلیل خواجہ پہلوان قریشی، قریش کانفرنس کے ضلع صدر عبدالعزیز قریشی، شہر صدر محمد یوسف قریشی، یوتھ صدر عمر قریشی، ایوب قریشی، فاروق قریشی، زبیر قریشی، ڈاکٹر عبدالباقی قریشی، اقبال قریشی، غیور قریشی، جنید قریشی روف قریشی،رفیق قریشی،زید قریشی،ظفر قریشی سمیت مختلف تعلقہ جات کے نمائندگان موجود تھے۔

نظامت کے فرائض نوید قریشی نے انجام دیے۔اجلاس میں علماء کرام میں مفتی ایوب قاسمی، مولانا سرور قاسمی، مفتی احمد قاسمی، مولانا عبدالرزاق اور مفتی شعیب قاسمی نے شرکت کی اور موجودہ حالات پر دینی و سماجی رہنمائی فراہم کی۔افتتاحی کلمات میں عزیز قریشی نے کہا کہ مہاراشٹر میں گئو ونش ہتیا بندی قانون کی آڑ میں بڑے جانوروں کے گوشت کے کاروبار سے وابستہ قریش برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے چھاپے، گرفتاریوں اور دباؤ کی کارروائیاں ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ جلگاؤں، اورنگ آباد اور پربھنی میں پہلے ہی برادری نے کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی طرز پر ناندیڑ ضلع میں بھی 19 جولائی سے بڑے کے گوشت کا کاروبار غیر معینہ مدت کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ اس اعلان کی حمایت میں مجموعہ میں موجود تمام لوگوں نے اپنے ہاتھ اٹھاکر اس کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی ۔چند کا یہ یہ اعلان جمعتہ القریش کے شہر صدر خلیل قریشی نے کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خلیل قریشی نے کہاکہ بند کے دوران کوئی جانور نہ خریدا جائے گا نہ ذبح کیا جائے گا۔اگر کوئی فرد اس فیصلے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر 25,000 روپے کا جرمانہ عائد ہوگا۔خلاف ورزی کی تکرار کی صورت میں قریش برادری اس فرد کا مکمل بائیکاٹ کرے گی۔

احتجاجی اقدامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی بند کے دوران ضلع کلکٹر آفس پر تین روزہ احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔تلنگانہ و کرناٹک جیسے پڑوسی ریاست کے اضلاع سے جانوروں کی خرید و فروخت کی کوششوں پر بھی نگرانی رکھی جائے گی۔اس تحریک کو مضبوط بنانے کے لیے کسان برادری کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔مطالبات کی منظوری تک بند اور احتجاج جاری رہے گا۔قریش برادری کا ایک مشترکہ نمائندہ وفد جلد ضلع انتظامیہ سے ملاقات کر کے تحریری شکایات اور مطالبات پیش کرے گا۔اجلاس کے اختتام پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ برادری کو اتحاد، حوصلہ اور کامیابی عطا فرمائے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading