پلوامہ حملہ، مسلمانوں کی حماقت، متوقع الیکشن اور دیش بھکتی کی آڑ میں گھناﺅنے عزائم!!!
*سمیع اللّٰہ خان
جنرل سیکرٹری: کاروان امن و انصاف
ksamikhann@gmail.com
نریندرمودی کی سرکار نے نوٹ بندی کو دہشتگردی کے خلاف کامیاب جنگ قرار دیا تھا!
نریندرمودی سرکار نے چیخ چیخ کر ” ایک کے بدلے دس سر ” لانے کا دعویٰ کیا تھا!
سنگھی بھاجپائی حکومت نے ” فوج کے تحفظ ” کا دعویٰ بھی ٹھوکا تھا!
یہ وقت تھاکہ ہندوستانی پوچھتے کہ تمہارے ان دعووں کے باوجود چالیس چالیس فوجی کیسے مار دیے گئے؟
لیکن *جس کمیونٹی کی عقل پر غلامی کے تالے پڑ جاتے ہیں وہ حق مانگنے کی جگہ بھیک مانگتی ہے اور سوال پوچھنے کی جگہ صفائی دیتی پھرتی ہے! یہی کچھ ہندوستان میں اسوقت ہورہاہے! کیا آپ جانتے ہیں حقائق کیا ہیں؟ آپکے ردعمل کا انجام کیا ہونے والا ہے؟ اور فائدہ کس کو پہنچ رہاہے؟ آئیے تفصیلی جائزہ لیتے ہیں:*
کشمیر کے پلوامہ میں گزشتہ دنوں ايک خودکش بمبار کی کارروائی کے نتیجے میں کئی فوجی ہلاک ہوگئے، یہ ایک قابل مذمت حادثہ ہے، جس پر ہمیں شديد افسوس بھی ہے
اس حادثے کے فوراﹰ بعد سیکولر مسلمانوں کی بوکھلاہٹ دیدنی تھی، مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر حادثے کے فوراﹰ بعد جسطرح کا اسٹینڈ لیا اور دوڑ دوڑ کر ماتم برپا کیا تاکہ ان کی ” حب الوطنی ” اور ان کا ” سیکولرزم ” ثابت رہے اور ان کے وطنی آقا خوش رہیں، یہ ردعمل غلامانہ تھا اور اس سے ہم نے اختلاف بھی کیا تھا، لیکن ” پاکستان مردہ باد ” اور ” بزدلانہ دیش بھکتی ” کے کھوکھلے سرٹیفکٹ حاصل کرنے کی مذموم کوشش میں ہمارے لوگ اندھے ہوجاتےہیں وہ ان نعروں سمیت کیمرے پر آکر ” مشرکین ” کی واہ واہی لوٹنے کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت وہ اپنی نسلوں کو غلامی میں پھینکتے ہيں، مسلمانوں نے اس ملک میں ” حب الوطنی ” کا سرٹیفکٹ حاصل کرنے کی جتنی کوششیں کی ہیں وہ اتنے ہی مجروح ہوئے ہیں، اگر اتنا پیسہ اور اتنی کوششیں ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوتے تو منظرنامہ دوسرا ہوتا، لیکن کیا کہیں گے آپ جب سوداگری پالیسی ٹھہرے؟ جب ضمیر فروشی ” مصلحت کہلائے؟
پلوامہ سانحے کے بعد فوری طورپر مسلمانوں نے سوگ اور ماتم کا اعلان کردیا، بعض اعلٰی درجے کے سوداگروں نے تو ” بند ” تک کا اعلان کردیا! ملک بھر میں مسلمانوں کا ردعمل ایسا تھا گویاکہ ان کے کسی اپنے گھر والے نے کوئی جرم کیا ہو اور یہ لوگ صفائی دیتے پھر رہے ہیں!
دیش بھکتی، حب الوطنی کے اس ماتمی بوکھلاہٹ میں مسلمانوں نے بلا کسی تکلیف و تکلف یہ گیند سنگھیوں کے پالے میں اچھال دی اور اسے ہندو مسلم ایشو بنادیا، پوری طرح ناکامیوں اور نامرادیوں میں گھری ہوئی ظالم و ڈکیت بھاجپا سرکار کو یہی تو چاہیے تھا، چنانچہ نتیجے میں کیا ہورہاہے اب؟
ملک بھر میں کشمیری طلباء کو ٹارگٹ کیا جارہاہے، ملک بھر میں فوج کی تعزیت کے نام پر منظم فرقہ واریت اور نفرت انگیزی ہورہی ہے، راقم سطور نے خود مشاہدہ کیا، ” شردھانجلی اور فوج کی تعزیت ” کے نام پر بلائی گئی سبھاؤں میں ” جے شری رام ” ” وندےماترم ” ” ایک کے بدلے سو سر لائیں گے” ” اب تو آتنک وادیوں سے یُدّھ ہوگا ” جیسے نعروں کے ساتھ ناچ گانے اور اشتعال انگیز ریکارڈنگ چلائی جارہی ہیں، یہ سب بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر، پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں اور مخلوط عوامی جگہوں پر دھڑلے سے کیا جارہاہے! رکشا پولرز سے لیکر لوکل ٹرین کے مسافروں کی ذہنی آلودگی کا عالم یہ ہیکہ وہ اسے مسلمانوں اور فوج کی جنگ سے تعبیر کررہےہیں، بڑے بڑے لیڈران کے بیانات خالص پولرائزیشن کروانے میں زبردست رول ادا کرچکے ہیں اور ابھی بھی کررہےہیں، جو قدآور لیڈر دن بھر مذہبی منافرت سے دور رہنے اور دشمنوں کی سازش کا شکار ہونےسے بچنے کی تلقین کرتے کرتے نہیں تھکتے تھے وہ آج جانے انجانے میں اپنے کردار و بیانات سے اس ” فضاء منافرت ” کا حصہ بن رہےہیں،
دسیوں مقامات پر مساجد کے سامنے سے دیش بھکتی کا جلوس اشتعال انگیز نعرے بازی کرتے ہوئے گذر چکا،
دہرادون کے دو تعلیمی اداروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب اپنے یہاں کشمیری طلباء کو داخلہ نہیں دینگے،
اتراکھنڈ میں بجرنگ دل، وشو ہندوپریشد اور کئی ایک ہندوتوا تنظيموں نے ملکر ۱۲ کشمیری طلبا کی پٹائی کردی،
ہریانہ کے انبالہ میں ایک گرام پنچایت نے حکمنامہ جاری کیا ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے یہاں کرائے پر رہ رہے کشمیری طلبا کو نکال باہر کریں_
ان جیسی سنگین صورتحال پر غور کیجیے اور خود ہی اندازہ لگائیں کہ آپ بوکھلاہٹ والی دیش بھکتی کا ثبوت دے دے کر ملک میں ۲۰۱۹ سے پہلے کس کی منشاء کے مطابق ماحول سازی کا حصہ بن رہےہیں؟ اور ذرا بتائیں کہ، کشمیری طلباء کے ساتھ ملک گیر سطح پر ہونے والے اس برتاؤ سے انجام کار کشمیریوں کا ذہنی گراف کس سمت جائےگا؟
خدا جانے اس ملک کے مسلمانوں کو کیا ہواہے، ایمانی موت لگتاہے واقع ہوچکی ہے، انہیں شرم نہیں آتی کہ جب سینکڑوں کشمیری بچوں کی آنکھیں پھوڑی جاتی ہے، کشمیری خواتین کی عصمت دری ہوتی ہے تو ان کے منہ میں دہی جم جاتا ہے! لیکن آج ایک کشمیری واقعہ، جس کے ذریعے ظالم حکومت کو گھیرے میں لیناتھا، مسلمانوں نے اسے اپنے بزدلانہ ردعمل سے کشمیریوں کے خلاف اور مودی کے حق میں بنادیا ، قومی پستی کا کوئی تہہ در تہہ دفن ہونا دیکھے!
جاری………………………..