مقبوضہ بیت المقدس،۴۲اکتوبر(پی ایس آئی)بار بار اسرائیلی جیلوں میں قید وبند، بچوں اور اہلیہ سے ملاقات پر زبردستی پابندی سمیت فلسطینی نڑاد فرانسیسی اسیر صلاح الحموری کی مشکلات میں سے ہیں۔ ان کے اہل خانہ کو توقع ہے کہ الحموری عن قریب صہیونی جیل سے رہائی کے بعد ان سے ملیں گے۔شمالی مغربی بیت المقدس کے کفر عقب کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں موجود ابو صلاح الحموری اور ان کی فرانسیسی نڑاد اہلیہ ایک بارپھر اپنی نظریں صہیونی عقوبت خانوں کی طرف جمائے ہوئے ہیں جہاں سے الحموری کی رہائی کی امکانات ہیں۔
بار بار گرفتاری:صلاح الحموری کو اسرائیلی فوج نے 30 ستمبر کو حراست میں لیا۔ انہیں گرفتاری سے صرف ایک روز قبل ہی رہا کیا گیا تھا۔ اس سے پچھلی ان کی گرفتاری 23 اگست کو ہوئی تھی۔ اس وقت وہ کفر عقب میں موجود اپنی رہائش گاہ پر تھے جب قابض فوج نے انہیں حراست میں لے لیا۔صلاح الحموری کے والد نے د±کھ بھرے درد لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ کافی نہیں کہ میں نے، میری بہو نے اور اس کے بچوں نے کئی عرصے سے صلاح الحموری کو دیکھا بھی نہیں۔ میرے بیٹے نے ایسا کیا جرم کیا ہے کہ اسے دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اور الحموری کی والدہ کو ڈر ہے کہ ہم اپنے اسیر بیٹے سے ملاقات کے بغیر ہی دنیا سے رخصت نہ ہوجائیں کیونکہ صہیونی ریاست کا نسل پرست نظام ہمیں اور بیٹے کو ایک دوسرے سے دانستہ طور پر دور کر رہا ہے۔
فرانسیسی جہد کار:صلاح الحموری فلسطینی شہریت کے ساتھ ساتھ فرانس کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ 33 سالہ صلاح الحموری اپنی جوانوں کے کئی قیمتی سال صہیونی ریاست کی جیلوں میں گزار دیے۔ کچھ عرصہ فرانس کی سڑکوں پر بھی گذار دیا۔ ان کی والدہ فرانسیسی نڑاد ہیں جب کہ خود صلاح الحموری نے بھی ایک فرانسیسی لڑکی ہی سے شادی کی۔ اس سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔ دونوں کو اسرائیلی فوج نے فلسطین سے بے دخل کر دیا تھا اور انہیں دوبارہ القدس یا غرب اردن میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔اسرائیلی فوج نے الحموری کو 2005ءمیں حراست میں لیا اور انہیں دو سال قید کی سزا سنائی گئی۔ رہائی کے بعد انہیں کچھ عرصہ بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا اور عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین سے تعلق کی پاداش میں 9 سال قید میں ڈال دیا گیا۔ الحموری پر عوفادیا یوسف نامی ایک یہودی ربی کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔چھ سال قید کے بعد سنہ 2011ءکو اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت انہیں بھی رہا کیا گیا۔ یہ معاہدہ اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور اسرائیل کے درمیان ہوا تھا جس میں اسرائیل نے اپنے ایک فوجی گیلاد شالیت کے بدلے میں 1050 فلسطینیوں کو جیلوں سے رہا کیا تھا۔اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد الحموری نے انسانی حقوق کے مضمون میں القدس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔
غیر مسبوق نسل پرستی:فلسطینی اسیران کے اہل خانہ پر مشتمل کمیٹی کے چیئرمین امجد ابو عصب نے مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صلاح الحموری کے حوالے سے اسرائیلی ریاست اندھا دھند اور غیر مسبوق نسل پرستانہ پالیسی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اس کی تازہ مثال ان کی جیل سے رہائی کے صرف چند گھنٹے کے اندر اندر دوبارہ گرفتاری ہے۔ابو عصب کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے گرفتاری اور 11 سال جیل کے سابقہ فیصلے سے کے بہتر تھا کہ صلاح الحموری فرانس میں رہتے ہوئے اپنے خلاف مقدمات قانونی کارروائی کرتے۔ انہوں نے صہیونی جیل میں قید کاٹنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی قسم کی مصالحت قبول کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا تھا۔ انہیں گیارہ سال قید کے 13 ماہ بعد دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔