بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان اب تک چیزیں ’اَن سلجھی‘ نظر آ رہی ہیں۔ ایک طرف بی جے پی لیڈران یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے اور شیو سینا کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہے، وہیں شیو سینا لیڈران کی تلخ بیانی جاری ہے۔ شیو سینا کے سینئر لیڈر اور پارٹی ترجمان سنجے راؤت تو ’سیاسی کھیل‘ بالکل فرنٹ فٹ پر کھیلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ آج انھوں نے ایک اور بیان دیا ہے جس سے بی جے پی کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ سنجے راؤت نے واضح لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ ’’بی جے پی سے فی الحال حکومت سازی پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔‘‘
میڈیا سے بات چیت کے دوران سنجے راؤت نے صاف کر دیا ہے کہ ان کی پارٹی بی جے پی کے سامنے جھکنے والی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوام چاہتی ہے کہ وزیر اعلیٰ شیو سینا سے ہو، اور بی جے پی کو عوام کی بات ماننی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر شیو سینا فیصلہ کرتی ہے، تو انھیں (بی جے پی) ریاست میں مستحکم حکومت بنانے کے لیے ضروری نمبر مل جائے گا۔ لوگوں نے 50-50 فارمولے کی بنیاد پر حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا ہے۔ عوام چاہتی ہے کہ شیوسینا سے وزیر اعلیٰ ہو۔‘‘
Sanjay Raut, Shiv Sena: If Shiv Sena decides, it'll get the required numbers to form stable government in the state. People have given mandate to form government on basis of 50-50 formula that was reached in front of people of Maharashtra.They want Chief Minister from Shiv Sena. pic.twitter.com/mFwLu7LbhV
— ANI (@ANI) November 1, 2019
خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کے مطابق سنجے راؤت نے یہ بھی کہا کہ فی الحال بی جے پی سے حکومت بنانے کو لے کر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ شیوسینا کے رخ سے یہ صاف ہو گیا ہے کہ وہ اپنی بات کو لے کر بضد ہے اور 50-50 سے کم پر ماننے والی نہیں۔ چونکہ سنجے راؤت نے جمعرات کو این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملاقات بھی کی ہے، اس لیے بی جے پی میں ان کے بیانات کو لے کر سناٹا پسرا ہوا ہے۔ بی جے پی کی طرف سے سنجے کے بیان پر اب تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ 30 اکتوبر کو مہاراشٹر بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب ہونے کے بعد دیویندر فڑنویس نے ایک بیان ضرور دیا تھا جس میں انتہائی سنبھل کر میڈیا سے انھوں نے کہا تھا کہ ’’شیو سینا افواہوں پر دھیان نہ دے اور بی جے پی کے ساتھ آ کر حکومت بنائے۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ جو بھی شیو سینا کا مطالبہ ہے اس پر بات چیت ہوگی اور مسئلہ کا حل نکالا جائے گا۔
قابل غور ہے کہ شیوسینا لگاتار یہ بات کہہ رہی ہے کہ لوک سبھا انتخاب کے دوران 50-50 فارمولے پر بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ سے بات ہوئی تھی اور اسی کے پیش نظر شیو سینا-بی جے پی اتحاد قائم ہوا تھا۔ شیو سینا کے مطابق اس وقت یہ طے ہوا تھا کہ مہاراشٹر الیکشن کے نتائج کے بعد اگر اتحاد کی حکومت بنتی ہے تو اس میں شیو سینا کی 50-50 کی حصے داری ہوگی۔ یعنی کابینہ میں شیو سینا کے 50 فیصد وزیر ہوں گے۔ خبروں کے مطابق اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ عہدہ پر ڈھائی ڈھائی سال کے لیے اتفاق قائم ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شیو سینا آج وزیر اعلیٰ عہدہ اور نصف وزارتوں کے لیے بضد نظر آ رہی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی لیڈروں کے بیانات سے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ شیو سینا سے کیے گئے وعدوں سے منحرف ہو رہی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
