ایم آئی ایم کے لیڈر وارث پٹھان نے متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہےکہ ۱۵ کروڑ ۱۰۰ کروڑ پر بھاری پڑ سکتےہیں . اسی طرح اسدالدین اویسی کے اسٹیج پر بھی انتہائی متنازع نعرے بازی ہوگئی
اور ان دونوں کے حوالے سے اب بی جے پی، زہریلی میڈیا اور ہندوتوا کے نفرت انگیز پیادوں نے آگ بھڑکانے کا کام شروع کردیاہے، اور پوری طرح سے ان دونوں ایشوز کو لیکر ٹوٹ پڑے ہیں، گویاکہ پہلے سے تیار بیٹھے تھے. جو بھاجپا اب تک مسلسل ہزیمت کی وجہ سے پریشان تھی اسے کھل کر زہر اگلنے کا مزید موقع مل چکا ہے
وارث پٹھان نے عوامی تحریک کی یہ لڑائی جو کہ بھارت واسی بنام آر ایس ایس اور بی جے پی ہے، یہ لڑائی جوکہ آئین بنام منوسمرتی ہے، یہ لڑائی جو کہ ہندوتوا بنام ہندو لڑی جارہی تھی، اس لڑائی کو سیدھے سیدھے ۱۵ کروڑ بنام ۱۰۰ کروڑ بنا دیا بالفاظ دیگر مسلمان بنام دیگر تمام بھارتیوں کی لڑائی، یہ بالکل غلط، سوفیصد غلط بیانیہ ہے،اسی طرح اسد اویسی کے اسٹیج سے متنازع اور انتشار بھری صورتحال کا سامنے آنا یہ واضح کرتاہے کہ آر ایس ایس کی مشنریاں پوری طرح ایکٹو ہوچکی ہیں
ہندوستان کی موجودہ صورتحال میں جبکہ انصاف پسند ہندوﺅں، ملحدوں اور دیگر لوگوں کی طرف سے حکومتی مظالم اور جن سنگھی ریشہ دوانیوں کے خلاف لازوال قربانیاں دی جارہی ہیں، سب نے ملکر آر ایس ایس، بی جے پی اور ہندوتوا کے پورے جَن سنگھی کیڈر کو بیک فٹ پردھکیل رکھا ہے
بھارتیہ جنتا پارٹی نے جس اشتعال انگیز غرور اور تعصب کے ساتھ شہریت ترمیم کا کالا قانون لایا تھا وہ اسے اب عالمی سطح پر رسوا کررہاہے
ان احتجاجی مظاہروں اور اس پوری تحریک کو کمیونلزم، فرقہ واریت اور فسادی رخ سے بچانا سب سے پہلی اور اولین ترجیح ہے ورنہ حاصل تو کچھ نہیں ہوگا البتہ بیشمار بےگناہوں کا خون بہہ جائےگا، اور ماضي کی ایسی بھیانک تاریخ ہمارے سامنے ہے دشمن ان احتجاجی مظاہروں اور عوامی تحریک کو ہرحال میں ختم کروانا چاہتاہے
بلکہ بعض قرائن سے تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ آر ایس ایس کی چال خطرناک ہوسکتی ہے وہ ایک طرف کچھ بات کررہی ہے، وہیں دوسری طرف حکومت اور سپریم کورٹ کے الگ الگ بیانات آرہے ہیں اور زمین پر کچھ اور ہی منظر ہے
ایسےمیں لگتاہے کہ اس تحریک کو خدانخواستہ عوام کے حق میں مضرت رساں بناکر اس طرح ختم کروانے کی کوشش ہو کہ آئندہ ایسی کوئی تحریک برپا ہی نا ہو. اور اس کا سب سے خطرناک راستہ ہندو مسلم فسادات ہوسکتے ہیں
اور اس وقت دیدہ کہ نادیدہ, مجلس اتحاد المسلمین، ایم آئی ایم، اور اس کا پلیٹ فارم اس آگ کو بھڑکانے کے لیے استعمال ہورہاہے، جسے اگر بروقت روکا نہیں گیا تو آگے مزید تشویشناک حالات ہوسکتےہیں
مسلمان نوجوانوں کا ایک ایسا جنونی طبقہ بھی ہے جو اب اویسی برادران کی عقیدت میں اندھا ہے، ایسے میں بہت سنبھالنے کی ضرورت ہے
اسد اویسی، اور ایم آئی ایم سے تعلق اپنی جگہ لیکن ان کے ذریعے دشمن کی لگائی جانے والی اس آگ کو نظرانداز کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی، اور قوم کے ساتھ ناانصافی ہوگی
سمیع اللّٰہ خان
۲۰ فروری، بروزجمعرات ۲۰۲۰
ksamikhann@gmail.com