*✍️ :پرویز نادر*
کل ایک مضمون نظروں سے گزرا جس کا عنوان تھا ۔۔۔۔۔
*کس بات کا جشن ہے،جان بچ جانے کا یا معصوم بچوں کی شہادت کا؟*
اس مضمون میں موصوف نے غزہ میں گرتے ہوئے بم بکھرتے ہوئے انسانی چھیچھڑے،آسمان چاک کرتی ہوئی چیخیں،ہر طرف لاشیں ہی لاشیں،تباہ ہوتے ہوئے مکانات، ویران ہوتی ہوئی انسانی بستیاں، اور تلف ہوئیں معصوم جانوں کا تذکرہ کیا ،گویا موصوف نے کرشمہ کردیا ،اسرائیل کو طاقتور اور فلسطینیوں اور بطور خاص حماس کو ناصرف کمزور بلکہ احمق اور مجرم بھی ثابت کردیا۔۔۔
یہ نتیجہ ہے رزم حق و باطل کے اصولوں سے بے بہرہ ہونے اور تاریخ سے نا واقفیت کا، باطل کے بڑے بڑے لشکر اور حق پرستوں کی قلیل تعداد و سامان جنگ کی کمی کبھی بھی جنگ کی فتح و طاقت کا میعار نہیں رہا اور اہل ایمان کا ہمیشہ سے شیوہ ہی یہ رہا ہے اور انہیں زیب بھی یہی دیتا ہے کہ زنگی کی بقا اور حق کی خاطر دشمن عناصر سے بھڑ جائے جنگ و قتال کے لیے سامان حرب و ضرب کی تیاری بھی مسلم ہے لکین باطل کو طاقتور دیکھ غلامی پے رضامند ہوجانا یہ بزدلی اور آخرت میں ناکامی کا موجب ہے، اب کیا کریں اگر اسرائیل کی طاقت کو قبول کرکے القدس سے دست برداری اور اور اپنی زمین یہودیوں کے ہاتھوں گفٹ کردینا اگر آپ کے نزدیک عقلمندی اور وقت کا تقاضہ ہے تو نا یہ غیور فلسطینیوں کو قبول ہے اور نا اس کا تصور دنیا کے کسی بھی صاحب عقل مسلمان کے ذہن میں آ سکتا ہے، عربوں کی نا اہلی اور دنیا کے دیگر مسلم ممالک کی بے حسی فلسطینیوں کے لیے اسرائیل کی شکل میں ناسور بن گئی تو اس میں فلسطینیوں کا کیا قصور ۔۔۔۔
خوشی اور غموں کا تال میل زندہ اور آزاد قومیں ہی جانتی ہیں ،یہ غلامی میں زندگی بسر کررہے لوگ نہیں جانتے غلاموں کے لیے سب سے بڑی خوشی شکم سیری ہوتی ہے ،فتح کی خوشی کا جشن منانا جنگ سے نبرد آزما لوگو کے لیے سب کچھ ہوتا ہے اگر فرعون کے عظیم لشکر سے نجات پاکر بنی اسرائیل شکرانے کے طور پر روزہ رکھ سکتی ہے تو دنیا کے سپر پاور کے زعم میں مبتلا طاغوت کا غرور خاک میں ملاکر اگر حماس اور فلسطینی قوم سجدے میں گر جائے ،گھروں سے نکل کر نعرہ تکبیر بلند کرے اپنی گاڑیوں کے ہارن بجائے تو اس میں غلط کیا ہے ،جنگ اگر تھوپ دی جائے،اپنی زندگی اور آزادی و حریت کی خاطر جنگ اگر لازم ہو جائے تو لڑنا تو ہر ایک کو پڑے گا چاہے ضعیف ہوں یا پھر مرد یا بچے ہوں اور یہی سب کچھ آپ کو فلسطین میں دیکھنے کو ملے گا اگر آپ کا شکوہ یہ ہے کہ معصوم جانیں گئیں ہیں تو فکر ہم کو کرنی چاہیے کہ فیملی پلاننگ کے جرم میں ہمارے بچے کم کیوں ہیں فلسطین میں تو بچوں کی تعداد بہت ہے اگر عورتیں بیوہ ہوتی ہیں تو وہ معاشرہ ہمارے اوپر ہندوانہ تہذیب کی عائد کردہ بندشوں کا معاشرہ نہیں ہے جو بیواؤں کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردے وہاں بیواؤں کا دوسرا نکاح حکومت کی نگرانی میں کرایا جاتا ہے، یا آپ کو اس کا الزام اسرائیل پر لگاکر لعنت ملامت کرنی چاہیے کہ اس نے انسانی آبادی ،دواخانو اور اسکولوں پر بم کیوں برسائے جس میں عام شہریوں کے ساتھ بے قصور و معصوم بچوں کی جانیں گئیں،کیا دنیا کے دیگر ممالک کے مسلمانو کی طرح آپ نے فلسطینیوں کو یہ گلا کرتے دیکھا یا دنیا سے بھیک مانگتے ہوئے پایا کہ ہماری جانوں کو بچایا جائے؟ جن ماؤں کے بچے شہید ہوئے کیا ان ماؤں کو گلا کرتے ہوئے پایا؟ تو آپ کیوں اپنے نزدیک اس کو نقصان سمجھتے ہوئے اپنے جگر کا درد بے کار
میں بانٹتے پھر رہے ہیں ، جنگ کے دوران مارے جانا نا فلسطینیوں کے نزدیک خسارے کا باعث ہے اور نا قرآن و سنت اس کو خسارہ کہتے ہیں یہ تو دینا و آخرت کی کامیابی ہے جسے قرآن کی اصطلاح میں شہادت کہا جاتا ہے
شہادت ہے مقصود و مطلوب مومن
نا مال غنیمت نا کشور کشائی
اسی لیے تو یہ سب سے بڑی خوشی اور مبارکباد کی بات ہے اسی لیے یہ حماس کے نزدیک جشن اور خوشی کے لمحات ہیں ۔۔۔
آپ کہتے ہیں کہ یہ جان بچ جانے کا جشن ہے ،ہم نے تو حماس کے لیڈران کے بیانات سنے اور پڑھے کے ہمارے پاس اگلے چھ مہنیے تک لڑائی کی تیاری ہے تو بتائیں موت سے ڈر کیسا الرغم اس کے ہم نے تو صرف ایک سائرن کی آواز پر آپ کے بہادر اسرائیلیوں کو اپنی جان کی حفاظت کے لیے بنکروں میں پناہ لیتے اور چیختے چلاتے دیکھا ہے کیو کہ ان کے نزدیک زندگی کی قیمت ایک ہزار سال ہے اور دنیا ہی سب کچھ ہے ورنہ جنگ بندی کی پہل اسرائیل سے کیوں ہوتی ۔۔۔
آپ کہتے ہیں کہ اسرائیل ہر بار کی طرح باس بار بھی فلسطین کی زمین ہتھیاکر خاموش ہوگیا تو یہ بات کسی حد تک درست ہے کیونکہ اگر فلسطین کے مسلمان اور حماس جدوجہد اور مزاحمت نا کرتے تو کب کا اسرائیل نے پورے فلسطین پر قبضہ کر لیا ہوتا کیونکہ یہودیوں کے ہاتھوں عربوں نے کب کا فلسطین کو فروخت کیا ہوا ہے اور آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے یہ بات بھی بتا دوں کے صدی کی ڈیل بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے کہ فلسطینیوں کو کس طرح بے گھر کیا جائے۔۔۔۔۔
تو ہمارا مطالبہ غلامی میں زندگی بسر کررے دانشوران سے یہ ہیکہ ہم فکر اپنے دین و ایمان کی کریں کہ کس طرح ہم اس کافرانہ اور غلامانہ نظام میں اپنے دین پر عمل کر سکتے ہیں اور آخرت میں اللہ کے نزدیک غلامی پے رضامندی کا کیا جواز پیش کریں گے