کہتے ھیکہ دنیا میں ایک ایسا بھی مقام ہے جہاں پر 72 گھنٹوں کا دن اور 72 گھنٹوں کی رات ہوتی ہے ظاہر ہے 72 گھنٹوں کی نیند کے بعد 72 گھنٹوں کی بیداری بھی ضروری ہے اس مقام پر جمود طاری ہوتا ہے زندگی کے آثار دور تک نظر نہیں آتے بالکل اسی طرح گزشتہ 72 سال سے مسلمانوں پر طاری جمود کے چلتے انہیں ایک ایسی قیامت نے گھیر لیا کہ جہاں سورج زمین پر اور زمین تپ کر سرخ ہو گئی اور اس زمین پر انسانیت پوری طرح تنگ ہو چکی ہے دودھ پیتے بچے کو ماں نے ٹھکرا دیا، بھائی بھائی کا دشمن ہوا، بیٹا باپ کے خون کا پیاسا ہوا، ہر سو نفسانفسی کا ماحول برپا ہوا، نمازیوں سے اخلاص اٹھالیا گیا نفاق اور کفر کا اس قدر بول بالا ہوا کہ نہ کوئی اپنا رہا نہ کوئی پرایا!
گذشتہ 72 سالہ غفلت نے انسانوں کو حیوانوں میں تبدیل کر دیا کہ اور نفسانفسی کا یہ عالم رہا کہ انسانیت کا کوئی پاسبان ملک عزیز میں باقی نہ رہا مذہبی منافرت نے اپنے قدم جما لیے اور سیاسی روٹیوں کے لیے انسانوں کی بھیڑ دینے کا کھیل شروع ہوا – بابری مسجد شہادت کے بعد 1992 کے فسادات ہو یا 2002 گجرات فسادات، 2013 مظفر نگر فسادات یا پھر 2020 دہلی فسادات سبھی فسادات میں اقلیتوں کو نقصان پہنچایا گیا اقلیتوں کو نقصان پہنچانے میں اکثریت کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور اہم بات اقلیت، اکثریت سے زیادہ انسانیت کو نقصان پہنچا کیوں کہ برسراقتدار بیٹھی یاجوج ماجوج کی جوڑی اب حیوانیت پر اتر آئی ہے وہ اسلاموفوبیا کا زہر گھول کر مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کر کے ملک کا بٹوارہ کرنا چاہتے ہیں اور شہریت ترمیم قانون کے خلاف جاری شاہین باغ احتجاج کو ختم کرنا انکا مقصد ہے انہیں غلط فہمی تھی کہ وہ دہلی کو تشدد کی آگ میں دھکیل کر شاہین باغ کا حوصلہ توڑ سکتے ہیں مگر اس سازش سے حوصلے پست نہیں ہوئے بلکہ منظم، مضبوط اور مستحکم طریقے سے تحریک کو آگے بڑھانے کا حوصلہ ملا -سی اے اے کی لڑائی سیکولرازم بنام ہندو ازم ہے اگر اس بات کو سمجھنا ہے جبکہ حکومت اس لڑائی کو ہندو بنام مسلمان کر رہی ہے –
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ CAA NRC اور NPR کے خلاف پچھلے دو ماہ سے زائد عرصے سے احتجاج جاری ہے پورا ملک سراپا احتجاج ہے دہلی شاہین باغ طرز کے 1300 سے زائد شاہین باغ آباد ہوئے ان دو ماہ میں کسی طرح کا کوئی تشدد نہیں ہوتا ہے پھر اچانک دہلی کے چند باغ میٹرو اسٹیشن پر جاری احتجاج اٹھانے کے لئے سیاسی نیتاؤں کے اشتعال انگیز بیانات آتے ہیں اور اشرار احتجاج کر رہی خواتین کو اٹھانے جاتےہے اور پھر فسادات شروع ہوتے ہے تین دن چلنے والے فساد میں کروڑوں کی املاک پھونک دی گئی تیزاب، پٹرول بم پھینکے گئے جس میں 200سے زائد زخمی ہوئے اور لگ بھگ 45 افراد کی موت ہوئی دہلی کے گرو تیج بہادر اسپتال کی جانب سے مرنے والے افراد کی فہرست جاری کی جس میں 23 ہندو اور 22 مسلم افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے اس سے اندازہ ہوتا ھیکہ نقصان کس کا ہوا؟ نشانہ اقلیت تھے لیکن نقصان اکثریت کا ہوا اور سب سے زیادہ نقصان انسانیت کا ہوا، بھائی چارے کا ہوا، یکجہتی کا ہوا، گنگی جمنی تہذیب کا ہوا بقول راحت اندوری کے
لگے گی آگ تو آئے گے گھر کئی زد میں
یہاں صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
اس پورے معاملے میں حکومت کی مجرمانہ چشم پوشی کے سبب فرقہ پرستوں کا حوصلہ ساتویں آسمان پر رہا اس کے باضابطہ ویڈیو سوشل میڈیا، یوٹیوب پر موجود ہے حکومت انتظامیہ اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی دہلی فساد پوری طرح پہلے سے پری پلان تھے جس طرح سینئر آئی پی ایس آفیسر سنجیو بھٹ نے کہا تھا کہ 7 فروری 2002 کو اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی نے تاکید کی تھی کہ " ہندوؤں میں غصہ ہے وہ جو کرتے ہے کرنے دو" ٹھیک اسی طرح دہلی میں دنگائیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی نا صرف چھوٹ دی گئی بلکہ پولیس بھی فساد میں پیش پیش رہی پولیس کے دنگائیوں کے ساتھ ملکر اقلیتوں کی املاک پر پتھراؤ کرتے ویڈیو موجود ہےوزارت داخلہ نے تو یہ کہہ دیا کہ فساد خودبخود ہوا تھا جب مرکزی وزیر ملک کے غداروں کو گولی مارنے کا کھلے عام اعلان کرے، مسلمانوں کو کرنٹ دینے کی بات کرے، مسلمان کو سبق سکھانے کی بات کرے، پھر یہ فسادات خود بخود کیسے ہو سکتے ہیں؟؟
شاہین باغ احتجاج نہ ہندو مخالف ہے اور نہ ہی ملک مخالف ہے یہ احتجاج حکومت کی ہٹ دھرمی کیخلاف ہے لیکن اسے اشتعال انگیز بیانات دے کر ہندو بمقابلہ مسلمان بنایا گیا اور احتجاج کرنے والے کو ملک کے غداروں میں لاکر کھڑا کردیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ احتجاج کرنے والے فساد نہیں چاہتے اور فساد کرنے والے احتجاج نہیں چاہتے احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے جو ہمیں جمہوریت سے حاصل ہوتا ہے حکومت کی جانب سے دنگائیوں کو اکسایا گیا اشتعال انگیز بیانات دیئے گئے اور جو وہ چاہتے تھے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے –
اگر دہلی تشدد کی غیر جانبدارنہ تفتیش کی گئی تو وزیراعظم، وزیرداخلہ، مرکزی وزراء اور مقامی بی جے پی لیڈران پر ان اموات کی ذمہ داری طے ہوگی اشتعال انگیزی اور تشدد کی وجہ تھی شاہین باغ میں احتجاج کررہی خواتین کو اٹھانا اس لیے مخالفین شاہین باغ پر فکری حملے کر رہے ہیں اس کے خلاف مذمتی شاہین نے کنجشک فروماں کا سینہ چاک کرکے اس قیامت کو بھی توڑ دیا اور سرخ خون کے دریاؤں کو بہتے دیکھ کر بھی اپنے حوصلوں کی ڈھال سے ٹوٹ پڑتے آسمان کو روک دیا اس نظارے کو دیکھ کر پوری دنیا انگوشت بدنداں ہے دہلی میں فساد ہوا تین دنوں تک دنگائیوں نے ننگا ناچ کیا لیکن شاہین باغ کا احتجاج مسلسل جاری ہے
مرکزی حکومت کے سینے میں شاہین باغ کے کانٹے کی چبھن کا احساس کا اندازہ صاف طور پر نظر آتا ہے اس کے باوجود بھی شاہین باغ کے قدموں میں ہنوز لرزہ طاری نہ ہوا 72 سال کی نیند کے بعد بعد 72 سال کی بیداری کی شروعات ان علامہ کے شاہین سے ہیں جن کا کام پرواز کرنا ہے جو قوم اپنی تاریخ خود نہیں لکھتی وہ دوسروں کے ہاتھوں یرغمال رہتی ہے لیکن ملک بھر میں جاری شاہین باغ طرز کے احتجاج کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس صدی میں ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی اور یہ تاریخ شاہین باغ کے انقلاب کی ہوگی – انشاءاللہ
