اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کے آٹھ مقامات میں شدید لڑائی جاری ہے جہاں ‘حماس سے اسرائیلی علاقوں اور لوگوں کا کنٹرول واپس لینے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔’ اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 600 سے زیادہ بتائی گئی ہے جبکہ فلسطینی حکام کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 370 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
خلاصہ
اسرائیل کے مقامی میڈیا کے مطابق حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 600 سے بڑھ گئی ہے جبکہ درجنوں افراد کو یرغمال بنا لیا گیا ہےاسرائیلی حکومت کے مطابق حماس نے 100 اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بنایا۔جبکہ فلسطینی حکام کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 370 لوگ ہلاک جبکہ قریب دو ہزار زخمی ہوئے ہیں. اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کے علاقے میں آٹھ مقامات پر لڑائی جاری ہے۔ گذشتہ روز غزہ سے فلسطینی عسکریت پسند اسرائیل میں داخل ہوئے تھےاسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملک ’حالتِ جنگ میں ہے۔۔۔ حماس سے اسرائیلی علاقوں اور لوگوں کا کنٹرول واپس لینے کے لیے کوششیں جاری ہیں‘ حماس نے سنیچر کی صبح اسرائیل میں راکٹ حملے کیے تھے اور اس کے مسلح افراد اسرائیل میں داخل ہوگئے تھے۔ یہ گذشتہ دہائیوں میں سب سے زیادہ کشیدہ صورتحال ہے
اسرائیل، فلسطین تنازع: گُوگل کے نقشوں میں یہ علاقہ صاف کیوں نہیں دکھائی دیتا
آج کل کسی بھی مسلح تصادم یا لڑائی کی خبروں میں خلائی سیاروں سے لی جانے والی تصاویر کا کردار بہت اہم ہو چکا ہے۔ لیکن ایسی خلائی تصاویر جن میں آپ متعلقہ علاقے کی تمام تفیصل دیکھ سکتے ہیں، ان سے آپ کی فوجی حکمت عملی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔کچھ ایسا ہی معاملہ غزہ کے ساتھ بھی ہے جو کے دنیا کے گنجان ترین آبادی والے علاقوں میں سے ایک ہے، آخر وہ ’گُوگل میپس‘ کی ویب سائٹ پر دھندلا کیوں دکھائی دیتا ہے۔
اتوار کے روز غزہ اور اسرائیل کی صورتحال
جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ ہونے والی ایک مسجدImage caption: جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ ہونے والی ایک مسجد
اسرائیلی فوجی اشکلون کے قریب فلسطینی عسکریت پسندوں کی تلاش میں ہیںImage caption: اسرائیلی فوجی اشکلون کے قریب فلسطینی عسکریت پسندوں کی تلاش میں ہیں
Getty ImagesCopyright: Getty Imagesغزہ کی پٹی پر واقع رفح میں ایک ٹرک اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت سے ملبہ ہٹا رہا ہے۔Image caption: غزہ کی پٹی پر واقع رفح میں ایک ٹرک اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت سے ملبہ ہٹا رہا ہے.
’غزہ میں ہر جانب موت ہی موت ہے‘
غزہ شہر سے تعلق رکھنے والے نیورو ری ہیبلیٹیشن اور پین میڈیسن کنسلٹنٹ ڈاکٹر خمیس ایلیسی نے بی بی سی سے بات کی اُن کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں جہاں کہیں بھی آپ جا رہے ہیں، آپ کو جنازے نظر آتے ہیں، آپ کو ہر طرف موت ہی موت نظر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بلکُل ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ اس زمین پر زندگی کے خاتمے کے بارے میں کوئی فلم دیکھ رہے ہیں۔‘
ایلیسی کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے اپنے خاندان کے افراد کو چوتھی منزل کے گھر سے گراؤنڈ فلور پر اپنے بھائی کے گھر منتقل کر دیا کیونکہ چوتھی منزل پر ‘پوری عمارت دائیں سے بائیں اور ایک طرف سے دوسری طرف جا رہی ہے اور دھماکوں سے لرز رہی ہے۔‘ان کا مزید کہنا ہے کہ ’وہ کل سے سوئے نہیں ہیں۔ ’حالات یہ ہیں کہ آپ آنکھیں تک بند نہیں کر سکتے، بچے رو رہے ہیں اور چیخ رہے ہیں، بجلی نہیں ہے، انٹرنیٹ نہیں ہے اور اس لیے آپ کو لگتا ہے کہ اب آپ کی باری ہے۔‘’یہ بم آپ کے گھر کے اوپر، آپ کے اپارٹمنٹ کے اوپر ہو گر سکتا ہے۔‘
غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کے ’زیرِ زمین ہونے کا امکان‘
کچھ ہی عرصہ قبل بی بی سی ریڈیو 4 کے ایک پروگرام ’دی ورلڈ دس ویک اینڈ‘ میں صحافی گرشون باسکن نے اسرائیلی فوجی گلاد شلیٹ سے متعلق بات کی۔ گلاد شلیٹ وہی اسرائیلی فوجی ہیں جنھیں سن 2011 میں حماس نے یرغمال بنا لیا تھا اور ان کی رہائی کے لیے گرشون باسکن نے حماس کے ساتھ مزاکرات کیے تھے۔بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران گرشون باسکن کا کہنا تھا کہ ’ممکن ہے کہ حماس نے یرغمالیوں (اسرائیلی باشندوں) کو زیر زمین منتقل کر دیا ہو جس کی وجہ سے اسرائیل کے لیے ان کا سراغ لگانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔‘باسکن نے مزید کہا کہ ’میں بلا شبا یہ کہ سکتا ہوں کہ اسرائیل کا پہلا مقصد فوجی کارروائیوں کے ذریعے انھیں (اسرئیلی یرغمالیوں کو) تلاش کرنا ہوگا، نہ کہ مذاکرات کے ذریعے۔‘باسکن نے کہا کہ ’انھیں توقع ہے کہ فضائی حملوں کے بعد اسرائیل غزہ میں ’بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن‘ کے لیے بری فوج بھیجے گا، جس کا مقصد حماس کے اہم رہنماؤں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور اپنے یرغمالیوں کو آزاد کرانا ہے ہوگا۔‘Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 19:2019:20حماس کے حملے نے اسرائیل کو چونکا دیا، لیکن آگے کیا ہوسکتا ہے؟اسرائیل اس وقت ایک جنگ کا خدشہ دیکھ رہا ہے جو متعدد محاذوں پر ایک ساتھ شروع ہو سکتی ہے۔ اسرائیل کے لیے سب سے بری صورت حال یہ ہو گی کہ لبنان میں موجود حزب اللہ بھی اس میں شامل ہو جائے۔مزید پڑھیےArticle share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 19:0519:05بریکنگاب تک 600 اسرائیلی شہری اور 370 فلسطینی ہلاکاسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ سنیچر سے اب تک حماس کے حملے میں 600 سے زیادہ اسرائیلی شہری ہلاک جبکہ 2000 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 100 سے زیادہ اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا گیا ہے۔دوسری طرف غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں 370 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد قریب 2200 بتائی گئی ہے۔Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 19:0219:02ویڈیو: غزہ میں لوگ اسرائیلی میزائل حملوں کی زد میں آنے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیںVideo contentVideo caption: غزہ میں لوگ اسرائیل میزائل حملوں کی زد میں آنے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیںغزہ میں لوگ اسرائیل میزائل حملوں کی زد میں آنے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیںArticle share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 19:0219:02اسرائیل میں کئی امریکیوں کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں: بلنکنReutersCopyright: Reutersامریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اسرائیل میں کئی امریکی شہری ہلاک ہوئے ہیں مگر حکام اس کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ اسرائیل کے پاس ضرورت کے مطابق سامان ہو۔‘دوسری طرف اسرائیل میں برطانوی شہری جیک مارلو لاپتہ ہوئے ہیں۔ وہ عزہ کے قریب ایک آؤٹ ڈور پارٹی میں سکیورٹی کی خدمات سرانجام دے رہے تھے جب وہاں حملہ ہوا۔ادھر مصر میں دو اسرائیلی سیاحوں کو اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 18:3418:34ایرانی صدر کا فلسطینی عسکریت پسند رہنماؤں سے رابطہایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی صدر نے حالیہ تازہ ترین پیش رفت کے بعد فلسطینی عسکریت پسند گروہ حماس اور اسلامی جہاد کے رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی دونوں رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کی تفصیلات تا حال ظاہر نہیں کی گئیں۔واضح رہے کہ حماس کو ایران کی حمایت حاصل ہے جو اسے مالی اعانت کے ساتھ ساتھ اسلحہ اور تربیت فراہم کرتا ہے۔Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 18:2218:22اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت کے مناظرVideo contentVideo caption: بی بی سی کی ٹیم کے قریب ایک عمارت کے تباہ ہونے کے مناظربی بی سی کی ٹیم کے قریب ایک عمارت کے تباہ ہونے کے مناظرویڈیو میں وہ مناظر دیکھے جا سکتے ہیں کہ جب اسرائیلی میزائل نے غزہ میں بی بی سی کی ٹیم کے قریب ایک عمارت کو تباہ کیا۔یہ فوٹیج سنیچر کے روز اس وقت بنائی گئی جب اسرائیل نے فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد جوابی حملے شروع کیے تھے۔Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 17:5817:58بریکنگاسرائیل اور غزہ میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعاتاسرائیلی مقامی میڈیا کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اب تک اس کشیدگی میں 500 سے زائد اسرائیلی ہلاک ہو چُکے ہیں تاہم سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو یرغمال بھی بنایا گیا ہے۔دوسری جانب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری اس حالیہ کشیدگی کو اب 24 گھنٹے مکمل ہو چُکے ہیں جس کے بعد غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے مطابق اب تک 313 افراد ہلاک جبکہ جوابی اسرائیلی فضائی حملوں میں 2000 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے آئی ڈی ایف کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی اسرائیل اور غزہ کی پٹی میں 400 سے زائد فلسطینی عسکریت پسند ہلاک اور درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 17:4417:44’اس کشیدگی کے اثرات دور رس ہوں گے‘لیز ڈوسیٹ، مرکزی نامہ نگار برائے بین القوامی امورReutersCopyright: Reutersحماس کے حملے کے وقت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے رہنما یروشلم اور قیدیوں کے لیے لڑائی اور اُن کی رہائی کے لیے ان کا استعمال کرتے رہے ہیں۔لیکن اس مزاحمتی تحریک کے ایک ایسے آپریشن میں کہیں زیادہ وسیع عزائم ہوں گے جس کی تیاری میں برسوں لگ جائیں گے۔مگر اب تازہ صورتحال کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے معاملات اور اقدامات ہیں جو مل کر اس وقت کو پیچیدہ اور سمجھنے میں مشکل بناتے جا رہے ہیں۔ اس بحران کے نتائج سے یقینی طور پر بہت سے وسیع تر معاملات کے متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔یہ غیر معمولی حالات اور کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب، سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ایک اہم موڑ پر ہیں اور سعودی عرب یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔اس ساری صورت حال کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ جہاں امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل کی بیٹھک ہو رہی تھی وہاں حماس نے دستی بم پھینک دیا ہو۔اور اس ساری صورتحال میں یہاں بہت سے کھلاڑی موجود ہیں جیسا کہ ایران، جو حماس کا اتحادی ہے، اور ساتھ ہی روس بھی جو ان کی حمایت امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری رکھے ہوئے ہے۔ حتیٰ کہ یوکرین کی جنگ بھی۔حماس بحیثیت تنظیم منقسم ہونے کی وجہ سے پہچنی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کا فوجی ونگ خطرناک کشیدگی کا باعث بن رہا ہے جس کے اثرات دور رس اور دیرپا ہوں گے۔Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 16:5316:53مودی کی اسرائیل سے اظہار یکجہتی پر بحث: ’منی پور کے ساتھ بھی کھڑے ہونے کی ضرورت ہے‘اگرچہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح انداز میں اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تاہم سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ انڈیا کے اس نئے رخ سے متفق نہیں ہیں۔ وہ انڈیا میں حکمراں جماعت بی جے پی کے پہلے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’اسرائیل نے فلسطین کی جس زمین پر قبضہ کر رکھا ہے اسے خالی کرنا پڑے گی۔‘مزید پڑھیےArticle share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 16:5016:50جب اسرائیل کے دفائی نظام ’آئرن ڈوم‘ نے فضائی حملہ ناکام بنایاVideo contentVideo caption: اسرائیلی ’آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم‘ غزہ کی جانب سے آنے والے میزائلوں کو روکتے ہوئےاسرائیلی ’آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم‘ غزہ کی جانب سے آنے والے میزائلوں کو روکتے ہوئےاسرائیل کے جنوبی شہر ’اشکیلون‘ کی اس ویڈیو میں ملک کے ’آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم‘ کو غزہ کی جانب سے اسرائیل پر داغے جانے والے میزائلوں کو روکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 16:4416:44حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اب تک کیا ہواReutersCopyright: Reutersحماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے شروع کرنے اور جنوبی علاقوں میں دراندازی کے 24 گھنٹے سے زائد وقت گزر جانے کے بعد، فلسطین اور اسرائیل کے درمیان اب تک کی شدید لڑائی کی تازہ صورت حال:مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی اسرائیل کے کئی حصوں میں اسرائیلی افواج اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔خبر رساں ادارے ہارٹز نے اسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے جنوب کے زیادہ تر علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے، لیکن غزہ کی سرحد کے قریب کے اسرائیلی علاقوں بشمول بیری اور سدروٹ میں اب بھی شدید لڑائی جاری ہے۔برطانیہ میں اسرائیلی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ ایک برطانوی شہری جیک مارلو لاپتہ ہیں، وہ غزہ کی سرحد کے قریب اُس وقت ایک آؤٹ ڈور ڈانس فیسٹیول میں سیکیورٹی اسٹاف کے طور پر کام کر رہے تھے جب یہ حملہ ہوا۔ٹائمز آف اسرائیل نے آئی ڈی ایف کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی اسرائیل اور غزہ کی پٹی میں 400 سے زائد فلسطینی عسکریت پسند ہلاک اور درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ترکی میں اسرائیلی سفارت خانے نے اسرائیلی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ کم از کم 300 اسرائیلی اب تک اس کشیدگی میں ہلاک ہو چُکے ہیں جبکہ درجنوں کو حماس کی جانب سے اغوا کیا گیا ہے۔فلسطینی حکام کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اب تک اسرائیلی فضائی حملوں میں 313 افراد کو غزہ کی پٹی پر ہلاک کیا جا چُکا ہے۔دریں اثنا، اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ملک ’اب بھی حالتِ جنگ میں ہے‘ اور اب بھی حماس سے اسرائیلی علاقے اور مقامی آبادیوں کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 16:1016:10یرغمالیوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے زمینی کارروائی کی ضرورت پڑ سکتی ہےGetty ImagesCopyright: Getty Imagesیوروشلم میں مشرق وسطیٰ کے بیورو چیف جو فلوتو کے مطابق ’گذشتہ شب سے اسرائیلی سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی وہ ویڈیوز دیکھ رہے ہیں کہ جن میں شہریوں کو بندوق کی نوک پر ان کے گھروں سے باہر نکالا گیا اور بعد ازاں اُنھیں غزہ منتقل کیا گیا اور اکثر کو کیمرے کے سامنے تضحیک کا نشانہ بھی بنایا گیا۔‘یہ تمام تر صورت حال اور مناظر اسرائیل کے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں۔ ان حالات کو دیکھنے کے بعد ان یرغمالیوں کی بازیابی اور با حفاظت اپنے گھروں اور علاقوں میں واپسی اس وقت سب سے اہم امر ہے۔ماضی میں، جب اسرائیلی باشندوں کو عسکریت پسند گروہ حماس یرغمال بنانے میں کامیاب ہوا تھا تو یہ معاملہ بالآخر مذاکرات پر ہی ختم ہوا تھا، مذاکرات کے اس عمل میں کئی سال بھی لگے، اور جب یہ ممکن ہوا تو اس کے بدلے میں ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو بھی رہائی ملی۔ہم جانتے ہیں کہ حماس اب بھی ایسا ہی کرنا چاہتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ان یرغمالیوں کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی عسکریت پسندوں کی رہائی کو یقینی بنائے گا۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے حماس کو متنبہ کیا ہے کہ اگر یرغمالیوں کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔یہ دیکھنا مشکل ہے کہ وہ زمینی آپریشن کے بغیر یرغمالیوں کو کیسے بازیاب کرا سکتے ہیں – اور وہ اس بات کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں کہ وہ فائرنگ میں ہلاک نہ ہوں۔اسرائیلی فوج ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں کو متحرک کر رہی ہے اور ٹینکوں کو غزہ کی سڑک پر لایا جا رہا ہے۔ کسی موقع پر زمینی کارروائیاں جاری رہیں گی۔Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 15:5615:56غزہ کے قریب اسرائیلی علاقوں میں لڑائی جاریمیڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی اسرائیل کے کئی حصوں میں اسرائیلی فورسز اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہیں۔خبر رساں ادارے ’ہارٹز‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ کی سرحد کے قریب ’سدروت‘ کے ایک پولیس سٹیشن پر 10 مسلح جنگجوؤں سے لڑائی کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے پر اسرائیل نے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اخبار نے اسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے رات گئے جنوبی علاقے کے بیشتر حصوں کا کنٹرول واپس حاصل کر لیا ہے، لیکن غزہ کی سرحد کے قریب بیری، سدروٹ اور چار دیگر جنوبی مقامات پر جھڑپیں جاری ہیں جن کی وضاحت نہیں کی گئی۔ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی سرحد کے قریب واقع ایک اور علاقے ’کفر عزا‘ کے رہائشی اب بھی اپنے گھروں میں محصور ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ ’کفر عزا اب بھی شدید جنگ کی زد میں ہے۔‘Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 15:4815:48اسرائیلی حملے کے بعد غزہ میں تباہی کے مناظرVideo contentVideo caption: غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد تبائی کے مناظرغزہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد تبائی کے مناظرغزہ میں ریکارڈ کی جانے والی اس ویڈیو میں اسرائیل پر حماس کی حالیہ کاروائی کے بعد اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے کی جانے والی فضائی کاروائی، بمباری کی شدت اوراس کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو دیکھا جا سکتا ہے۔جنوبی غزہ کی پٹی کے اہم علاقے ’خان یونس‘ میں تباہ ہونے والی مسجد، اور غزہ میں متعدد دیگر تباہ حال عمارتیں کو دیکھ کر باخوبی اس لڑائی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 15:3215:32اسرائیلی فوج کا 400 سے زیادہ فلسطینی عسکریت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰاسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے ترجمان ڈینیئل ہاگری کے مطابق جنوبی اسرائیل اور غزہ کی پٹی میں 400 سے زائد فلسطینی عسکریت پسند ہلاک اور درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس وقت، (کبوتز) کفر آزا میں شدید لڑائی جاری ہے، بڑی تعداد میں قصبوں میں تلاشی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تمام قصبوں میں اسرائیلی ڈیفینس فورس موجود ہے، ایسا کوئی قصبہ نہیں جس میں اُن کی موجودگی نا ہو۔خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ سنیچر کے روز حماس کے حملے کے بعد سے اب تک سینکڑوں فلسطینی مسلح افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔تاہم جنوبی اسرائیل میں دفاعی افواج کی جانب سے حماس کے خلاف آٹھ مقامات پر جھڑپیں جاری ہیں۔دریں اثنا حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متعدد علاقوں میں ’شدید لڑائی‘ جاری ہے۔Article share toolsشیئر کرنے کے لیے مزید آپشن دیکھ„یںShare this postCopy this linkان لنکس کے بارے میں مزید پڑھیںپوسٹ کیا گیا 14:2714:27ہمارے اسرائیل میں دو شہری ہلاک ہو گئے ہیں: تھائی لینڈ کے وزیراعظمتھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل میں حماس کے عسکریت پسندوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں دو تھائی شہری مارے گئے۔وزیر اعظم سرتا تھاوسین نے دونوں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں جبکہ وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ تھائی شہریوں کو اسرائیل سے نکالنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
