غزہ پر قبضے کے لیے دو لاکھ ریزرو فوجی درکار ہوں گے: اسرائیلی چیف آف سٹاف

اسرائیل کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے انکشاف کیا ہے کہ کابینہ کی منظور کردہ غزہ پر قبضے کی منصوبہ بندی پر عمل درآمد کے لیے تقریباً دو لاکھ ریزرو فوجیوں کی ضرورت ہو گی۔جمعرات کی شب وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کابینہ کے اجلاس میں غزہ پر مکمل قبضے کی ایک "مرحلہ وار” اسکیم پیش کی، جسے عسکری قیادت کی مخالفت کے باوجود جمعہ کی صبح منظور کر لیا گیا۔ فوجی ادارے نے اس منصوبے کو قیدیوں اور فوجیوں کی جانوں کے لیے خطرناک قرار دیا تھا۔

فوجی اور انسانی وسائل کی کمی
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے "کان” کے مطابق، ایال زامیر نے اجلاس میں کہا کہ اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے نہ صرف بھاری فوجی قوت بلکہ ایسے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو اس وقت موجود نہیں۔ ان کے بقول، دو لاکھ ریزرو فوجیوں میں سے بیشتر پہلے ہی طویل مدت تک جنگ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے عام شہریوں کے لیے ہسپتال قائم کرنے اور بڑی مقدار میں انسانی امداد پہنچانے کی ضرورت ہو گی، جو فوج فی الحال فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ زامیر کے مطابق، اس وقت شہری آبادی کو منتقل کرنے کے لیے درکار سہولیات اور انسانی ردعمل موجود نہیں، اس لیے اضافی ہسپتال بنانے ہوں گے۔

قیدیوں کی واپسی فہرست سے نکالنے کی تجویز
ایال زامیر نے اجلاس کے دوران تجویز دی کہ غزہ میں موجود قیدیوں کی بازیابی کو جنگ کے مقاصد کی فہرست سے نکال دیا جائے۔ اس تجویز پر وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتامار بن گویر نے بھی انسانی امداد اور ہسپتالوں کی فراہمی کی مخالفت کرتے ہوئے اعتراض اٹھایا۔

10 گھنٹے کا اجلاس اور قبضے کا نقشہ
عبرانی میڈیا کے مطابق یہ منظوری ایک 10 گھنٹے طویل اجلاس کے بعد دی گئی۔ وزیر اعظم کے دفتر نے جمعہ کو بیان جاری کیا کہ فوج غزہ پر مکمل کنٹرول مکمل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ منصوبے میں فوج کا ان علاقوں کی طرف بڑھنا شامل ہے جہاں پہلے داخل نہیں ہوئی، خاص طور پر وسطی غزہ اور غزہ شہر اور ان پر قبضہ کرنا۔

بنجمن نیتن یاھو کی پیش کردہ اسکیم کے تحت، سب سے پہلے غزہ شہر کے فلسطینیوں کو جنوبی حصے کی طرف دھکیلا جائے گا، پھر شہر کو گھیر کر مزید اندرونی علاقوں میں فوجی کارروائی کی جائے گی۔

پچھلا قبضہ اور موجودہ صورتحال
سات اکتوبر 2023ء سے جاری جنگ میں اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا تھا، تاہم اپریل 2024ء میں یہ دعویٰ کرتے ہوئے واپس ہٹ گئی کہ حماس کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا ہے۔

موجودہ وقت میں وسطی غزہ کے کچھ علاقے، جیسے دير البلح اور مہاجر کیمپ النصيرات، المغازی اور البريج، زمینی قبضے سے باہر ہیں، لیکن ان میں بھی سیکڑوں عمارتیں تباہ کر دی گئی ہیں۔ مقامی فلسطینی حکام کے مطابق، یہ غیر مقبوضہ علاقے غزہ کی کل زمین کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading