غزہ میں قحط: مزید پاانچ نئی اموات، بھوک سے مرنے والے 217 ہوگئے

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ بھوک اور غذائی قلت سے مرنے والوں کی تعداد 217 ہو گئی ہے جن میں 100 بچے بھی شامل ہیں۔ وزارت نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں قحط اور غذائی قلت کی وجہ سے 5 نئی اموات ریکارڈ کی گئیں جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

امداد کے متلاشیوں کو نشانہ بنانا
دریں اثنا نصیرات میں العودہ ہسپتال نے اعلان کیا کہ اسے وسطی غزہ کی پٹی میں وادی غزہ کے علاقے کے جنوب میں صلاح الدین سٹریٹ پر امدادی ڈسٹری بیوشن پوائنٹ کے قریب ایک اجتماع کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے نشانہ بنانے کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوئے ہیں۔ محصور فلسطینی پٹی میں شہری دفاع نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ روز غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 37 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں 30 امداد کے متلاشی بھی شامل تھے۔
بڑے پیمانے پر قحط
غزہ کی پٹی کی آبادی جو تقریباً 2.4 ملین افراد پر مشتمل ہے کو خوراک، پانی اور صحت کی دیکھ بھال کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ مارچ کے اوائل میں کراسنگ کی تقریباً مکمل بندش کے بعد سے انسانی امداد کے داخلے پر مسلسل سخت پابندیاں ہیں۔ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (یو این آر ڈبلیو اے) نے حال ہی میں غزہ میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں غذائی قلت کے واقعات میں دگنا ہونے کی تنبیہ کی ہے۔ اس کی وجہ سامان کی شدید قلت ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے یہ بھی اعلان کیا کہ غزہ شہر میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔ جاری ناکہ بندی اور امدادی رسائی میں رکاوٹ صحت کی صورت حال کی خرابی اور جانوں کے ضیاع کو بڑھا رہی ہے۔

تقریباً دو ہفتے قبل 100 سے زائد غیر سرکاری تنظیموں نے غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر قحط کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔ غزہ کی پٹی تقریبا 22 ماہ سے جاری جنگ کی وجہ سے تباہی کا شکار ہے۔ ایجنسی فرانس پریس کے مطابق غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر فاقہ کشی پھیلنے کے ساتھ، ہمارے ساتھی اور جن لوگوں کی ہم مدد کرتے ہیں، کمزور ہو گئے ہیں۔ ایجنسی فرانس پریس کے مطابق ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز، ایمنسٹی انٹرنیشنل، آکسفیم انٹرنیشنل ، ڈاکٹرز آف ورلڈ اور کیریٹاس کی کئی شاخوں سمیت این جی اوز نے غزہ میں فاقہ کشی کی تصدیق کی ہے۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں ایک تباہ کن فوجی مہم شروع کی تھی۔ تاریخ کی بدترین نسل کشی میں اسرائیلی فورسز اب تک 61,369 سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کر چکی ہیں۔ مرنے والوں میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں۔ یہ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے اعداد و شمار ہیں جن کو اقوام متحدہ قابل اعتماد سمجھتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading