عید کے دن نئے کپڑے پہننے کا مسئلہ

قارئین کرام ! سوشل میڈیا کی سب سے بڑی بُرائی جس کی طرف بندے نے کئی مرتبہ نشاندہی کی ہے وہ یہ ہے کہ ہر ایرا غیرا بیٹھے بیٹھے کچھ بھی لکھ دیتا ہے اور عوام کا ایک بڑا طبقہ بغیر سوچے سمجھے، اس کی شرعی حیثیت جانے بغیر اندھا دھند اسے شیئر کرنا شروع کردیتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے ان نام نہاد مفکرین سے درخواست ہے کہ کچھ لکھنے سے پہلے بہت کچھ غور کرلیا کریں، آپ جو لکھ رہے ہیں اس کا دنیاوی کتنا فائدہ ہوگا؟ شریعت اس کی گنجائش ہوگی یا نہیں؟ ورنہ بروز حشر آپ کے لکھے ہوئے ہر ہر لفظ کی پوچھ ہوگی۔ اسی طرح ایسی پوسٹ بغیر سوچے سمجھے اور علماء کرام کی رہنمائی لیے بغیر دھڑا دھڑ شیئر کرنے والے بھی اپنی خیر منائیں کہ آپ کی ہر شیئر کی ہوئی پوسٹ کے بارے میں آپ کو اللہ کے یہاں جواب دہ م ہے؟ اگر یہ حضرات اپنا نام لکھ دیا کریں تو براہ راست ان سے رابطہ کرکے ان سے مزید استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

محترم قارئین ! فی الحال سوشل میڈیا پر انہیں پردہ نشین مفکرین کی طرف سے یہ بات بہت زور وشور سے چلائی جارہی ہے کہ ہمیں عید پر نئے کپڑے نہیں پہننا ہے، کیونکہ جب حرمین شریفین اور مساجد بند ہیں تو ہم نیا کپڑا پہن کر کیا کریں گے؟ اور کہیں یہ کہا جارہا ہے کہ نیا کپڑا پہننے سے ان لوگوں کی دل آزاری ہوگی جو نیا کپڑا نہیں پہن سکیں گے۔

ایسے لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ شریعت کاملہ کا واضح حکم یہ ہے کہ استطاعت ہوتو عید کے دن نیا کپڑا پہننا مسنون ومستحب ہے۔ اگر نیا کپڑا بنانے کی استطاعت نہ ہوتو جو سب سے اچھا کپڑا ہو وہ پہن لینا چاہیے۔ اب جن لوگوں کی استطاعت ہے وہ تو نیا کپڑا پہنیں گے اور جو استطاعت نہیں رکھتے وہ اپنے پاس موجود سب سے اچھا کپڑا پہنیں گے تو اب اس میں دل آزاری والی بات کہاں سے آگئی؟ کیا ایسے علاقے جہاں کچھ لوگ عید پر نئے کپڑے بنانے کی استطاعت نہیں رکھتے وہاں استطاعت رکھنے والوں پر نئے کپڑے پہننا ناجائز ہوجائے گا؟ بالکل نہیں۔ بلکہ ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق شریعت پر عمل کرے گا۔

اسی طرح حرمین شریفین اور مساجد کے بند ہونے پر بطور سوگ عید کے دن نئے کپڑے نہ پہننا بھی درست نہیں ہے۔ بلاشبہ حرمین اور مساجد میں عام نمازیوں کی پابندی ہم سب کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ لیکن اس کے سوگ اور غم میں عید کے دن نئے کپڑے نہ پہننے کی بات شریعت کے مزاج کے مطابق نہیں ہے۔ ایسے حالات میں رجوع الی اللہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ناکہ اپنے طور سے کوئی بھی پابندی لگادینے کی، جو مزاجِ شریعت کے خلاف ہو۔

پھر یہ بالکل الگ موضوع ہے کہ آپ عید کی تیاریوں میں فضول خرچی سے پرہیز کریں۔ اور موجودہ حالات میں تو اس کی بہت ہی زیادہ ضرورت ہے کہ ہم احتیاط سے خرچ کریں، اور حتی الامکان غریبوں کی مدد کو اپنے لیے ضروری سمجھیں۔ نیز احتیاطی تدابیر کا تقاضا ہے کہ ہم بازار کی بھیڑ کا حصہ بالکل نہ بنیں۔ کم سے کم خریدی پر اکتفا کریں۔ بالخصوص خواتین غیر ضروری چیزوں کے خریدنے سے بالکل اجتناب کریں۔

نوٹ : غیرمسلموں کی دوکانوں سے خریدی سے متعلق بھی بہت سی باتیں گردش کررہی ہیں، جس پر چند دنوں پہلے ایک مفصل اور مدلل جواب بعنوان "شہریت ترمیمی قانون حامیوں کا بائیکاٹ کرنا” لکھا گیا ہے، لہٰذا اس موضوع پر اس جواب کا مطالعہ مفید ہوگا۔

اللہ تعالٰی ہم سب شرعی احکامات کی باریکیوں کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، من مانی کرنے سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین

محمد عامر عثمانی ملی
(امام وخطيب مسجد کوہ نور مالیگاؤں)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading