کانگریس کی جن سنگھرش یاترا کا ناندیڑ میں زبردست استقبال، عوام کا مثالی جوش وخروش کا مظاہرہ
ناندیڑ:26اکتوبر(ورقِ تازہ نیوز) انتخابات کے دوران جھوٹے وعدوں کے ذریعے بی جے پی وشیوسینا نے عوام کوگمراہ کیا ہے اور ان کے بھروسے کو توڑا ہے۔ ملک کی عظیم شخصیات اور خواتین کے بارے میں توہین آمیز باتیں کرنے والی اس مغرور حکومت کو اکھاڑ پھینکئے۔ یہ اپیل آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اشوک چوہان نے نائیگاو¿ں میں ہوئے ایک عظیم الشان جلسے کے دوران کیں۔ اس جلسے کے دوران انہوں نے مرکزی وریاستی حکومت پر چوطرفہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے انتخابات میں عوام سے جھوٹے وعدے کرکے ان کے ووٹ حاصل کئے لیکن اقتدار ملنے کے بعد وہ ان وعدوں کو بھول گئے۔ بی جے پی وشیوسینا حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ریاست میں ۱۶?ہزار سے زائد کسانوں نے خودکشی کرلی ہے۔ کسانوں کی قرض معافی کا اعلان ہوکر ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا لیکن ابھی تک کسانوں کے قرضہ جات معاف نہیں ہوسکے ہیں۔ ہمارے دورِ اقتدار میں ہم نے ۷۲ ہزار کروڑ روپئے کا قرض ایک دن میں معاف کیا تھا۔ ہرسال ۲کروڑ نوجوانوں کو ملازمت دینے کا وعدہ مودی نے کیا تھا ، لیکن ساڑھے چار سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود ۹ لاکھ نوجوانوں کو بھی ملازمت نہیں مل سکا۔ لاکھو بیروزگار نوجوان ملازمت کے لئے حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نوجوانوں کا مستقبل اندھیرے میں ڈوب چکا ہے۔ مہنگائی سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ پٹرول وڈیڑل کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔ایندھن پرغیرمناسب ٹیکس لگا کر حکومت عام آدمی کو لوٹ رہی ہے۔ کسان، زراعتی مزدور، کاروباری، دلت، اقلیتیں ، آدیواسی اور سرکاری ملازمین گویا کہ ہر طبقے کوحکومت نے دھوکہ دیا ہے۔ بی جے پی کے لیڈران نے بدعنوانی کے ذریعے بے پناہ دولت کمائی ہے اور انہیں پیسوں کے نشے میں ڈوب کر وہ ہماری ماو¿ں بہنوں اورمہا پرشوں کے بارے میں کچھ بھی اناپ شناپ بک رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت مراٹھواڑہ کے لوگوں کے ساتھ جان بوجھ کر ناانصافی کررہی ہے۔ مراٹھواڑہ کے پروجیکٹ کو فنڈ نہیں دیا جارہا ہے۔ سڑکیں انتہائی خستہ حال ہوچکی ہیں۔ پورا مراٹھواڑو خشک سالی کا شکار ہوچکا ہے، اس کے باوجود حکومت خشک سالی کا اعلان نہیں کررہی ہے۔ کسانوں کی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، پورے علاقے میں پینے کے لئے پانی کی شدید قلت ہے، مویشیوں کو کھانے کے لئے چارہ نہیں ہے، اس کے باوجود حکومت کوئی مدد نہیں کررہی ہے۔ اس لئے اب اس مغرور بی جے پی وشیوسینا کو اکھاڑ پھینکئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حزبِ مخالف لیڈر رادھا کرشن ویکھے پاٹل نے ریاستی حکومت پر زبردست تنقید کی اور کہا کہ پوری ریاست خشک سالی کا شکار ہے، لیکن حکومت صرف 180تعلقہ میں خشک سالی جیسی صورت حال کا اعلان کرتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکومت سوئی ہوئی ہے اور اسے بیدار کرنے کے لئے ہم نے یہ جن سنگھرش یاترا نکالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وجئے مالیا، نیرومودی وغیرہ لوگ ہزاروں کروڑ روپئے لے کر فرار ہوچکے ہیں، ان سے کوئی وصولی نہیں ہورہی ہے اور ہمارے بیچارے کسانوں سے نقصان کا ہرجانہ وصول کیا جارہا ہے۔ رادھا کرشن ویکھے پاٹل نے شیوسینا پر بھی تنقید کیا اور کہا کہ شیوسینا کے لوگ اقتدار میں رہ کر اقتدار کا مزہ لینا چاہتے ہیں۔ شیوسینا کے لیڈران کسانوں سے ہمدردی دکھاتے ہیں لیکن کسانوں کے لئے کچھ نہیں کرتے۔ اگر شیوسینا کو کسانوں سے ہمدردی ہے تو وہ اقتدار سے باہر ہوجائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسان مصیبت کے شکار ہیں اس لئے حکومت فی ہیکٹر50ہزار روپئے کی مدد کرے۔ سابق وزیر ہرش ودرھن پاٹل نے اس موقع پر کہاکہ یہ حکومت اندھی وبہری ہے۔ لوگوں کی ناراضگی یہ نہیں دیکھ پارہی ہے اور لوگوں کی چیخ اسے سنائی نہیں دے رہی ہے۔ ان کے جذبات مرچکے ہیں۔ خواتین، بیروزگار، کھیتی میں کام کرنے والے وکسانوں کو انصاف دلانے کے لئے اس حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے ہمیں سنگھرش کرنا ہوگا۔ جبکہ محمد عارف نسیم خان نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور کہا کہ یہ حکومت صرف کسانوں کے معاملے میں ہی غیرسنجیدہ نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کی توجہ حقیقی مسائل سے بھٹکانے کی بھی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مذہب کے نام پر منافرت پھیلاکر یہ عوام کو تقسیم کررہی ہے لیکن ہم اس کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ نسیم خان نے کہا کہ ہی حکومت ہر اس طبقے کی دشمن ہے جو پچھڑے ہوئے ہیں۔ یہ حکومت صرف اڈانی وامبانی جیسوں کے مفاد کے لئے کام کررہی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں آزدی کے بعد سب سے زیادہ بدعنوانی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت دستور کو ختم کرنا چاہتی ہے اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ ایسی دستور دشمن و جمہوریت مخالف حکومت ملک کی سلامتی کے لئے کتنی خطرناک ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ اس حکومت سے اس کی بدعنوانیوں، اس کی وعدہ خلافیوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس منافرت کی سیاست کا چن چن کر حساب لیا جائے۔اس موقع پر ریاستی کانگریس کی شعبہ خواتین کی صدر چارولتا ٹوکس، پسماندہ طبقات کےریاستی صدر ڈاکٹر راجو واگھمارےنے بھی خطاب کیا اور حکومت پر جم کر تنقید کی۔ یہ جلسہ عام نائیگاو¿ں میں ہنومان مندرکے پاس منعقد ہوا، جس میں سابق وزیر بالا صاحب تھورات، ایم ایل اے مدھوکر چوہان، ایم ایل اے بسوراج پاٹل، ایم ایل اے وسنت چوہان، سابق ایم ایل اے ہنومنت راو¿ بیٹ موگرکر جیسے لیڈران شریک ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں عوام وکارکنان موجود رہے۔