عمان کے سلطان قابوس بن سعید کا جمعہ کی دیر شام انتقال ہو گیا۔ یہ خبر پھیلنے کے بعد عمان میں غم کا ماحول دیکھا جا رہا ہے اور تین دنوں تک قومی غم منانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ان تین دنوں تک عمان میں تعطیل رہےگی اور پرائیویٹ و سرکاری دفاتر نہیں کھلیں گے۔ 79 سالہ قابوس 1970 میں عمان پر حاکم ہوئے تھے اور انھوں نے برطانیہ کی مدد سے تختہ پلٹ کیا تھا۔ قابوس کو کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ ہی انھوں نے کسی کو اپنا جانشیں بنایا ہے۔
1996 کے ایک قانون کے تحت برسراقتدار فیملی کے ذریعہ گدی خالی ہونے کے تین دنوں کے اندر ایک جانشیں کا انتخاب کیا جائے گا۔ ساتھ ہی اگر وہ اس انتخاب سے متفق نہیں ہوتے ہیں تو فوجی اور سیکورٹی افسران کی ایک کونسل، سپریم کورٹ کے چیف اور دو مشیر اسمبلیوں کے چیف اس شخص کو برسراقتدار لائیں گے جس کا نام خفیہ طور پر سلطان نے سیل بند خط میں لکھا ہے۔
قابوس بن سعید کے انتقال کی خبر کے بعد ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اظہارِ غم کیا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ کے ذریعہ انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سلطان قابوس بن سعید کے انتقال کے بارے میں جان کر مجھے گہرا غم ہوا ہے۔ وہ ایک دوراندیش اور سیاسی لیڈر تھے جنھوں نے عمان کو ایک جدید اور خوشحال ملک میں بدل دیا۔ وہ ہمارے علاقے اور دنیا کے لیے امن کی علامت تھے۔‘‘
Sultan Qaboos was a true friend of India and provided strong leadership for developing a vibrant strategic partnership between India and Oman. I will always cherish the warmth and affection I received from him. May his soul rest in peace.
— Narendra Modi (@narendramodi) January 11, 2020
ایک دیگر ٹوئٹ کے ذریعہ پی ایم نریندر مودی نے سلطان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سلطان قابوس ہندوستان کے سچے دوست تھے اور انھوں نے ہندوستان اور عمان کے درمیان ایک اچھی اسٹریٹجک شراکت داری پیدا کرنے کے لیے مضبوط قیادت فراہم کی۔ میں ہمیشہ ان سے ملی گرم جوشی اور محبت کو سنجو کر رکھوں گا۔ ان کی روح کو سکون ملے۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
