علم کا نور ہی جہالت کے اندھیروں کو مٹا سکتا ہے، 60 سالہ تاسیس دارالعلوم سیف الاسلام

مولانا مفتی خلیل احمد اور دیگر کا خطاب، انیس ملت کو تہنیت

حیدرآباد 28/ اگسٹ (راست) اللہ تعالٰی نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ علم عطا فرمایا تھا کیوں کہ جہالت کا اندھیرا علم ہی سے مٹایا جا سکتا ہے فی زمانہ علماء اور دینی مدارس کی ضرورت ہے کیونکہ آۓ دن واقع ہونے والے مسائل کا حل اور جواب علم ہی سے دینا ہوگا دارالعلوم سیف الاسلام 60 سال سے اپنی خدمات انجام دےرہاہے یہ کوئی معمولی بات نہیں بانی دار العلوم عزیز محترم عرفان اللہ شاہ نوری کو اسے باقی رکھنے کیلئے دشوار اور تنگ حالات سے گزرنا پڑا

اُنہوں نے ہمت نہیں ہاری اور کام کرتے رہےان خیالات کا اظہار مفکر اسلام مولانا مفتی خلیل احمد انوار الٰہی شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے اُردو مسکن سالار ملت آڈیٹوریم میں منعقدہ جشن تاسیس دارالعلوم سیف الاسلام (ملحقہ جامعہ نظامیہ)کے موقع پر سرپرستی کرتے ہوئے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر بانی دار العلوم مولانا ابو عمار عرفان اللہ شاہ نوری کی عباء و شال پوشی کے ساتھ مفکر اسلام نے تہنیت پیش کی دیگر محبان نے بھی کثرت سے شال پوشی و گل پوشی کی سامعین کی کثرت سے آڈیٹوریم اپنی کم دامنی کا اظہار کر رہا تھا

جشن کا آغاز مولانا قاری رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد کی قراءت اور ممتاز مداح رسول جناب شفیع قادری کی نعت سے ہوا حضرت قاضی اسد ثنائی اور حضرت جلیل نظامی نے منظوم تہنیت پیش کی مولانا ڈاکٹر سید جہانگیر بانی جامعہ حرمین شریفین نے کہا کہ مسلمان دینی تعلیم و تربیت سے وابستگی اختیار کریں اہل علم و اساتذہ کی قدر دانی کریں ورنہ قوم اپنی اولاد کے مستقبل پر پریشان اور کردار پر رنجیدہ رہے گی۔ مولانا عرفان اللہ شاہ نوری کا علمی اور تربیتی سفر ہمارے لیے آئینہ ہے میں ان کی خدمات کاابتدا سے گواہ ہوں

مولانا حامد حسین حسان فاروقی امیر سنی دعوت اسلامی  نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے علمِ دین کی اشاعت اور دینی مدارس کے قیام کو ہر محلہ، ہر گوشہ میں از حد ضروری قرار دیا۔ مولانا ڈاکٹر شاہ محمد فصیح الدین نظامی مورخ جامعہ نظامیہ نے اپنی افتتاحیہ تقریر میں کہا کہ مسلمان اپنے دین کی حفاظت کریں۔ دنیا میں حکومت آج آسکتی ہے تو کل جاسکتی ہے لیکن دین آج نہ ملا تو کل نہیں مل سکتا آج قوم کو علمی میدان میں آنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اندھیرے کو کوسنے سے اندھیرا دور نہیں ہوتا بلکہ روشنی سے دور ہوتا ہے دار العلوم سیف الاسلام اپنے قیام سے تا حال مستقل طور پر بقاء و ارتقاء، ناخواندگی ،پسماندگی اور حیوانیت و درندگی کے خلاف جنگ کر رہا ہے۔ 60 سال سے ادارہ کا باقی اور کارکرد ہونا نہایت کرامت اور عظیم استقامت سے کم نہیں۔

حالات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت انیس ملت ایسی کتاب ہیں جس کا عنوان توکل ہے۔ظاہری اسباب کے نہ ہو تے ہوۓ بھی آپ نے استقامت کی ایک مثال پیش کی۔ بانی دار العلوم سیف الاسلام نے انعقادِ جشن پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ولی کامل پیر سیف علی شاہ نقشبندی کے وصال سنہ 1385 ہجری میں صباحیہ مدرسہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جو آج دار العلوم سیف الاسلام کے نام سے کارکرد ہے اور جس کی شہر کے مختلف محلوں میں شاخیں قائم ہیں جن سے نونہال طلباء و طالبات’ مرد و خواتین ناظرہ،حفظ مولوی کورس جامعہ نظامیہ کے ابتدائی شعبہ، امامت، خطابت، قضائت کے علاوہ اُردو دینیات جامعاتی کورس مولوی دینیات، عالم دینیات اور فاضل سے مستفیض ہو رہے ہیں۔ مولانا غلام خواجہ سیف اللہ سلمان سہروردی نے 60 سالہ خدمات کا مختصر اور جامع تعرف کروایا ڈاکٹر حسن محمد نقشبندی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا .

اس موقع پر فارغین قدیم اور اساتذہ دارالعلوم کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں بھی توصیف نامہ اور شال پیش کی گئی جشنِ تاسیس 60 سالہ یاد گار کے موقع پر ایک خوب صورت طغری فرمودہ اشعار حضرت شاہ کمال رح (شیخ طریق شیر میسور ٹیپو سلطان رح) جس کا ورد باعث برکت دافع رنج بلاء اور خاتمہ بالخیر کا ذریعہ ہے ۔مہمانوں کی خدمت میں پیش کیا گیا اس تاریخ ساز عدیم المثال جشن میں علماء مشائخ دانشوران کی کثیر تعداد نے شرکت کی.

جس میں قابل ذکر مولانا مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی صدر مفتی ،مولانا شبیر احمد یعقوبی شیخ التجوید جامعہ نظامیہ، مولانا مفتی انوار احمد نائب شیخ التفسیر جامعہ نظامیہ۔ مولانا مفتی مستان علی قادری مولانا ڈاکٹر صابر پاشاہ قادری امام مسجد حج ہاؤز مولانا اسحاق محی الدین قادری باب العلوم انوار محمدی مولانا سید غوث پیر کلیمی مولانا سعادت اللّٰہ بُخاری مولانا شکیل سہروردی مولانا محمد اللہ شاہ سرخیل اغا مولانا محسن قرموشی نوری وغیرہ ہیں قاری راشد عبد الرزق میمن کے سلام اور مولانا عبد احمد نقشبدی کی دعا پر جلسہ اختتام کو پہنچا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading