علما کی شان

عربی سے ترجمہ:مولانا محمد صہیب

بنو عباس کی حکومت کی بنیاد رکھنے اور بنو امیہ کا تختہ الٹنے کی مہم میں عبداللہ عباسی نے اڑتیس ہزارمسلمانوں کا قتل کیا۔ لشکر لے کربنو امیہ کی بناء اموی جامع مسجد میں داخل ہوا۔تاریخ نے اسے ’’السفاح‘‘ [بے دریغ اور بے تحاشا قتل کرنے والا] کا لقب دیا ہے۔اپنے محل میں فروکش ہوا۔مصاحبین سے گویا ہوا ،پوچھنے گا تمہارے خیال میں ہے ایسا کوئی بندہ کہ جو میری اس کارگزاری پہ تنقید اور اعتراض کرنے کی جرات رکھے؟؟جواب ملا :نہیں کوئی نہیں سرکار!!مگر ایک ہی بندہ ہے! امام اوزاعی!کہنے لگا لے کر آؤانہیں…درباری جب امام کو لینے پہنچے تو امام کھڑے ہوے،غسل فرمایا ، نیچے کفن پہنا ،اس کے اوپر سادہ کپڑے!اور گھر سے نکل کر محل کی جانب چلے۔بادشاہ نے اپنے فوجیوں اور وزیروں کو حکم دیا کہ دونوں طرف رستے کے اسلحہ لے کرقطار کی صورت کھڑے ہوجائیں اور تلواریں اوپرکی جانب اٹھائی ہوئی ہوں تاکہ امام اوزاعی کو خوف زدہ کیا جاسکے۔پھر حکم دیا کہ انہیں بلاؤ!آپ رحمہ اللہ اس شان سے داخل ہوے کہ جو علما کا باوقار طریقہ ہے اور بہادرنڈر لوگوں کا شیوہ! خود اپنی کیفیت اس وقت کی امام یوں بیان فرماتے ہیں کہ:’’بخدا میں نے یوں تصور باندھ لیا کہ جیسے رب ذوالجلال کا عرش دن قیامت کے سامنے کھلا لگا ہوا ہے اور پکارنے والا پکار رہا ہے کہ ایک گروہ جنت میں اور دوسرا جہنم میں!!!بس یہ تصور کرنا تھا کہ حاکم مجھے مکھی جیسا بے وقعت حقیر معلوم ہونے لگا اور اللہ کی قسم میں اس کے محل میں داخل ہونے سے قبل ہی اپنی جان کا سودا حق تعالی شانہ کے ساتھ کرچکا تھا‘‘۔اندر بادشاہ نے پوچھا:تم ہو اوزاعی؟؟انتہائی سپاٹ لہجے میں جواب دیا: ہاں !لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ اوزاعی ہے!!شدید غصہ ہوکر کہنے لگا[نیت پھنسانے کی تھی]
کیا رائےہے تمہاری کہ یہ جو کچھ ہم نے ان ظالم بنو امیہ کے ہاتھوں سے عوام اور علاقوں کو نجات دلائی ہے!! یہ جہاد اور رباط تھا؟؟امام گویاہوئے، فرمانے لگے :اے حاکم! حضور علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ اعمال کا دار ومدار نیتوں پہ ہے پس ہر شخص کو وہی ملےگا کہ جس کا اس نے ارادہ کیا۔ایسا سیدھا صاف جواب سن کرحاکم ہکا بکا رہ گیا۔ہاتھ میں جو چھڑی تھام رکھی تھے اسے زمین پر پٹخ دیا۔پھر پوچھتا ہے کہ یہ جو ہم نے بنو امیہ کے خون بہائے ہیں اس کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟
امام کا جواب کیا تھا ؟
فرمایا :مجھ سے فلاں نے اور فلاں نے فلاں سے[حدیث کی سند ذکر کی] بیان کیا کہ آپ کے دادا حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
’’ جو مسلمان لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہو اس کا خون حلال نہیں مگر صرف تین صورتوں میں،جان کے بدلے جان، شادی شدہ زانی، اورجو اپنے دین کو چھوڑ دے جماعت سے الگ ہوجاوے‘‘۔
حکمران کا پارہ غصہ سے آسمان کو جاپہنچا۔امام اوزاعی نے بھی اپنا عمامہ اتارا کہ جلاد کی تلوار کا رستہ ناروکے!
سب وزیر پیچھے ہونے لگے اور کپڑے سمیٹنے لگے کہ جب گردن ماری جائے تو خون کے چھینٹے ہم پہ ناپڑیں۔
غصہ سے کپکپاتے ہوئے حاکم نےایک اور سوال داغا:یہ جو مال ہم نے لوٹ لیا ہے اور جو گھر ہم نے ہتھیالیے ہیں ان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟؟
فرمایا: ’’یہ مال اگر ان لوگوں کے لیے حرام تھے تو تم پہ بھی حرام ہی ہیں اور اگر ان کے لیے حلال تھے تو سواے شرعی طریقہ کے تمہارے لیے حلال نہیں ہوسکتے۔اور دیکھنا!! قیامت کے دن خدا تم کوبرہنہ کرے گاجیسا کہ جب تمہیں پیدا کیا تو تم برہنہ تھے!!پھر اگر یہ مال جائیداد حلال تھے تو بھی ان کا حساب دینا ہوگا اور اگر حرام تھے تو پھر تو صرف عذاب ہی مقدر!!‘‘
حاکم غصہ سے بپھرا جارہا تھا اور امام علیہ الرحمہ بآوازِ بلند پڑھتے جاتے تھے۔
حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم’’مجھ کو میرا رب کافی! نہیں کوئی معبود اس کے سوااس پہ ہی میں نے بھروسہ کیا اور وہ رب ہے عرشِ عظیم کا‘‘۔
حکمران بولا !! جاؤ چلے جاؤ یہاں سے!! اور ایک تھیلی پیسوں سے بھری امام کی جانب اچھال دی۔ امام نے لینے سے صاف منع فرمادیا۔ایک وزیر نے اشاروں سے سمجھایا کہ خدا کے واسطے ابھی منع ناکریں، لے لیں۔امام نے تھیلی لے تو لی، مگر حکمران کے سامنے ہی اسے وزیروں اور درباریوں کی جھولیوں میں ڈال کرخالی کر دیا۔خالی تھیلی کو پھینکا اور سر اٹھاکر نکلے فرمارہے تھے کہ اللہ نے عزت اور بھی بڑھاہی دی۔
امام صاحب کا انتقال ہوتا ہے تو حاکم آپ کی قبر پہ جاکر کھڑاہوتا ہے اورکہتا ہے:
’’بخدا!میں زمین والوں میں سے بس آپ سے ہی ڈرتا تھا اور اللہ کی قسم ! جب میں آپ کو دیکھتا تھا تو یوں لگتا تھا کہ سامنے سے شیر چلا آرہا ہے‘‘۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading