عبدالاحد مومند: پہلے افغان خلا باز کی کہانی جنھوں نے خلا میں قرآن کی تلاوت کی

سابق افغان خلا باز عبدالاحد مومند خلا میں جانے والے پہلے افغان مسلمان تھے، جو اپنے سفر پر قرآن ساتھ لے گئے تھے اور انھوں نے سپیس سٹیشن کے اندر قرآن کی تلاوت بھی کی تھی۔پیر کو 67 سالہ مومند کی جرمنی میں وفات ہوئی ہے۔

ان کے خاندان کے ایک رکن طلحہ احمدزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ مومند کچھ عرصے سے ایک بیماری میں مبتلا تھے اور بعد میں ان میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔

مومند کو پہلے افغان مسلمان خلا باز کے طور پر جانا جاتا ہے کیونکہ وہ 1988 میں سوویت خلائی سٹیشن ’میر‘ کے سفر کے دوران قرآن اپنے ساتھ خلا میں لے گئے تھے اور وہاں اس کی تلاوت کرتے تھے۔

انھوں نے وہیں سے اپنی والدہ کو ٹیلی فون کال بھی کی تھی، جس کے بعد پشتو خلا میں بولی جانے والی چوتھی زبان بن گئی تھی۔

اس تاریخی سفر کے وقت مومند کی عمر محض 29 برس تھی۔

افغانستان کے سابق صدر محمد اشرف غنی نے مومند کی اچانک وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مومند نے ’اپنے ملک کے رنگوں اور قومی پیغامات کو ساتھ لے کر لامحدود وسعت کے ساتھ دنیا کے سامنے افغانستان کو پیش کیا۔‘

عبدالاحد مومند کون ہیں؟
عبدالاحد مومند 1959 میں افغانستان کے صوبہ غزنی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور پھر غزنی کے سلطان شہاب الدین سکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ کابل کے حبیبیہ ہائی سکول چلے گئے۔

انھوں نے کابل کے پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ میں دو سال تعلیم حاصل کی اور پھر سابق سوویت یونین گئے جہاں انھوں نے ہوا بازی کی تین سالہ تربیت حاصل کی۔

ملک واپس آنے کے بعد انھوں نے 1981 سے 1984 کے درمیان بگرام ایئر بیس پر فضائیہ کے پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دیں اور پھر 1984 سے 1987 کے درمیان پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے لیے کیئو یونیورسٹی آف ایوی ایشن اینڈ انجینیئرنگ میں زیرِ تعلیم رہے۔ اس کی معافی نہیں دے گا۔‘

’میں نے سب کو بتا دیا کہ بزرگ خلا باز ولادیمیر لیاخوف کے پرواز کے دن ختم ہو چکے ہیں اور مومند درست تھے۔ میں نے دوبارہ کبھی پرواز نہیں کی۔‘

1988 میں وہ لیاخوف کے ساتھ کابل پہنچے تو ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔ خوشی سے نعرے لگاتے ہجوم سڑکوں کے کنارے کھڑے تھے جبکہ سوویت قبضے کے خلاف لڑنے والے مجاہدین شہر پر غصے میں راکٹوں کی بوچھاڑ کر رہے تھے۔

25 برس بعد افغانستان کے اپنے پہلے دورے کے دوران انھیں صدر کرزئی کے دفتر سے فون آیا اور انھیں دوپہر کے کھانے کی دعوت دی گئی۔

بعد میں مومند نے یاد کیا تھا کہ ’وہ بہت مہربان تھے۔ انھوں نے فوراً مجھے بتایا کہ اگرچہ جب میں خلا میں گیا تو وہ سوویت یونین کے خلاف لڑ رہے تھے، لیکن پھر بھی انھیں بہت فخر اور خوشی محسوس ہوئی تھی۔‘

جرمنی میں مومند کی زندگی بہت مختلف تھی۔ وہ نہ فائٹر پائلٹ تھے، نہ خلا باز، نہ حکومتی وزیر۔ وہ شہر کی ایک چھوٹی کمپنی میں اکاؤنٹنٹ تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading