مہاراشٹر کے ڈی آئی جی قیصر خالد کی برسہا برس کی کاوشوں کا نتیجہ ،متعدد فن کار ایک ساتھ نظر آتے ہیں
ممبئی 18اگست(یواین آئی)ادب خیالات و افکار کی ترسیل کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہی سماج و معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں کو زبان کے روپ میں لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح سے ادب عوامی جذبات کا عکاس بھی بن جاتا ہے۔ بہترین ادب عوامی جذبات کو عوام تک پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ادب سماجی ضرورتوں کو الفاظ کا جامہ پہنا کر لوگوں کے سامنے اس طرح سے پیش کرتا ہے کہ وہ ان کے دل ودماغ تک پہنچ کر انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ان خیالات کو اظہار معروف اعلیٰ پولیس افسر اور پاسبان ادب کے روح رواں قیصر خالد نے یواین آئی اردو سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،قیصر خالد مہاراشٹر کے ڈی آئی جی ہیں ،لیکن ادب سے وابستگی رہی ہے ،وہ خود ایک اچھے شاعر ہیں اور اس تعلق سے کافی سرگرم۔رہے ہیں۔
ممبئی میں عالمی۔امن اور بھائی چارگی کے لیے منعقد کیے جانے والے مشاعرہ کاذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہاکہ یہ روایتیں پچھلے کچھ سالوں سے کمزور ہوتی جارہی تھیں کیوں کہ ادب کا اسٹیج کچھ ایسے لوگوں کے کے ہاتھ میں چلا گیا تھا جو ادب کی اہمیت کی بجائے پرفارمنس یا ذاتی کارکردگی پریقین رکھتے تھے۔اسی وجہ سے ادب کے بہترین فنکاروں کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کے لیے بڑے یا اچھے مواقع میسـر آنا مشکل ہوگیا تھا۔
قیصر خالد کے مطابق پاسبان ادب تنظیم نے اعلیٰ درجے کے فنکاروں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی روایت کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔پچھلی ایک دہائی سے یہ تنظیم ممبئی، نوی ممبئی، پونے، دہلی، لکھنئو، رائے بریلی اور ملک کی مختلف جامعات (یونیورسٹیوں) اور کالجوں میں مشاعرے، کوی سمیلن، سمینار، بحث و مباحثے، نئے قلمکاروں کے لیے ورکشاپ، داستان گوئی، ہندوستانی کلاسیکل سنگیت، ڈرامہ، پینٹنگ، نمائش وغیرہ کے ذریعے سے دم توڑتی ہوئی روایتوں کو دوبارہ زندہ کرنے میں مصروف ہے۔ ملک اور بیرون ملک سے فنکاروں کو مدعو کرتے ہوئے اس تنظیم نے انہیں سامعین و ناظرین کے روبرو پیش کیا ہے۔ اس نے نہ صرف سامعین کا فنکاروں سے رابطہ بنائے رکھا بلکہ ہندوستانی زبان و ادب اور تہذیب کی خدمت کرتے ہوئے بہترین، مضبوط اور پائیداربھارت بنانے کی اپنی بساط بھر کوشش کی ہے۔
پاسبان ادب کے ذریعے ہر سال درج ذیل پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔
1 اظہار (بین الاقوامی مشاعرہ)
اس پروگرام کے ذریعے اردو ہندی مشاعرے ، ادبی بحث و مباحث، قلمکاروں کا تعارف، کیلی گرافی(خطاطی) بیت بازی، نوجوان شعرا کا مشاعرہ، شاعرات کا مشاعرہ، وغیرہ پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔
2 انوبھوتی (جشنِ ہندی ادب)
اس پروگرام کے ذریعے ہندی کے بڑے قلمکاروں اور شعرا کا تعارف کروایا جاتا ہے، بحث و مباحثے اور مشاعرے منعقد کیے جاتے ہیں.
3 کاویانجلی
اس پروگرام کے ذریعے بڑے شعرا کی تخلیقات کو (نظموں / غزلوں ) کو موسیقی سے ہم آہنگ کرکے عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
4 میراث
اس پروگرام کے ذریعے بڑے شعرا کی تخلیقات کو (نظموں / غزلوں ) کو موسیقی سے ہم آہنگ کرکے عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
5 کاویے اتسو(جشنِ شعرا)
اس پروگرام کے ذریعے پاسبانِ ادب کے ماتحت ادارہ "جشن ادب” دہلی کے ساتھ مل کر اردو اور ہندی زبانوں میں ادب پر مبنی مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
اظہار 2019
یومِ آزادی کی مناسبت سے اس سال اظہار کا گیاریواں جشن نہر سینٹر (ورلی) کے وسیع و عریض آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں ملک اور بیرون ملک کے بہترین اور بڑے شعرا اپنی تخلیقات پیش کریں گے۔اس پروگرام میں جاوید اختر، ارشاد کامل، خان شمیم، اطہر شکیل، رنجیت سنگھ چوہان، شارق کیفی، مدن موہن دانش، منیش شکلا، ڈاکٹر لکشمن شرما، رفیعہ شبنم عابدی، اعجاز اسد، قمر صدیق، ڈاکٹر ذاکر خآن ذاکر اور قیصر خالد جیسے نامور شعرا شامل رہینگے۔ یہ پروگرام بالکل مفت رہے گا، اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ آپ اپنا قیمتی وقت نکال کر اس پروگرام میں شرکت کریں۔
قیصر خالد نے کہاکہ اس بار پروگرام کی خاصیت یہ ہے کہ پاسبان ادب کے ذریعے نہ صرف ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا بلکہ ہماری قدیم روایت "داستان گوئی”(جس میں نوجوان داستان گو کے ذریعے داستانِ مہابھارت سنائی جائے گی) کا بھی انعقاد کیا گیا۔ اس کے علاوہ غزلوں کو شاندار طریقے سے صنف نازک کے ذریعے کتھک جیسے شاندار کلاسیکل رقص پر پیش کیا جائے گا۔
اسی طرح نوجوان قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ان کی ذاتی تخلیقات کو اوپن مائک پروگرام کے ذریعے پیش کرنے کی سہولت دستیاب کروائی جائے گئ۔ اب تک عروس البلاد کے بیس تعلیمی اداروں (کالجوں) نے اس میں اپنا رجسٹریشن کروا لیا ہے۔ اسی طرح ٹیم کے ساتھ کالجوں کے پرنسپل، اساتذہ اور دیگر طلبہ بھی اس پروگرام میں شامل رہیں گے۔اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ اوپن مائک کے ذیعے پڑھی جانے والی شاعری (نظم/ غزل) کا جیوری کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا اور تین بہترین تخلیقات کو ایل آئی آف انڈیا کے ذریعے انعام و اکرام سے نوازا جائے گا۔
پروگرام دوپہر 2 بجے شروع ہو کر شام 9 بجے اختتام پذیر ہوگا۔پہلے آو اور پہلے پاو کے اصولوں پر ٹکٹ اور پروگرام کا دعوت نامہ دستیاب ہے