✍️: سمیع اللہ خان
شام کے انقلاب کو سقوطِ شام سے تعبیر کرنا غلطی ہے،یہ ظالم و جابر بدبخت بشار الاسد کا سقوط ہے جو ” الشام ” کے بابرکت قیام پر بھی منتج ہوسکتا ہے، ان شاءاللہ العزیز۔
شام میں بشار اور ایران کے کردار کی مذمّت کے سلسلے میں کوئی کنفیوژن ہونا ہی نہیں چاہیے۔ فلسطین میں ایران کے اچھے کردار کی پذیرائی کی وجہ سے شام میں ایران کے مذموم کردار کی مذمّت سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، اہلِ حق ایسے بےلاگ ہوتے ہیں ۔
شام کی فضاؤں میں اذانوں کی گونج اور دمشق کے حسین و جمیل عاشقانہ اُفق پر توحید کے نغموں کی آزادی میرے لیے بڑی ہی راحت افزا خبریں ہیں، میں تو ایک عرصے سے دمشق اور حلب کی جنت نظیر فضاؤں کی واپسی کا بڑا ہی خواہشمند ہوں تاکہ ان فضاؤں کی داستانوی، افسانوی اور روحانی خوشبوؤں کو محسوس کرنے کا موقع مل سکے، جن شہروں میں کچھ وقت گزارنے کی آرزو ہے ان میں یہ بھی ترجیحی طور پر شامل ہیں اور بچپن سے شامل ہیں،
آگے یہ تبدیلیاں کیا موڑ لیں گی اس سے قطع نظر ابھی تو یہ اچھی خبریں اور تبدیلیاں شامی مظلوموں کے حق میں ہیں ۔ اور ہم تو ” الشام ” کے قیام کی امید کرتے ہیں باقی اللہ کے ہاتھوں میں ہے ۔
افغانستان کے بعد شام سے عالم اسلام کے لیے یہ اچھی اور مثبت خبر ہے امید ہے کہ بہت جلد عالم اسلام اپنی ایمانی بہاروں پر لوٹ جائے گا۔
بعض وجوہات کی بنا پر میں ابھی اس بابت تفصیلی تجزیہ نہیں کررہا ہوں ان شاءاللہ کچھ دنوں بعد شام میں پیش آنے والی تبدیلیوں، اس کے مستقبل اور اہل ایمان کے لیے اس سے وابستہ امیدوں پر اپنی تفصیلی رائے پیش کروں گا ۔ ان شاءاللہ العزیز
سردست ہندی مسلمانوں سے یہ درخواست کروں گا کہ ابھی آپکا اولین ردعمل خوشی محسوس کرنا ہے ہمارے شامی برادران اور بہنیں ایک سفّاک ظالمانہ ایمپائر کی خونچکاں زیادتیوں سے آزاد ہوگئے، عالم اسلام ایک اور خبیث مجرم کے بوجھ سے رہا ہوگیا، اس خوشی کو عالم اسلام کا ہر ایمانی ممبر محسوس کرے، اور دعا کیجیے کہ اللہ رب العزت اس انقلاب کو ” الشام ” کے قیام کی شروعات بنائےـ