لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو و سابق وزیر اعلی مایاوتی نے ریاست میں 13 اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے پیش نظر بدھ کو پارٹی کی لکھنؤ میں ایک اہم میٹنگ طلب کی ہے۔
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ بی ایس پی نے اس باراپنے سابقہ روایت کو ترک کرتے ہوئے ضمنی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔بی ایس پی سپریمو میٹنگ میں ضمنی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیں گیں اور توقع ہے کہ میٹنگ میں امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا جائے۔
اس کے علاوہ میٹنگ میں رویداس مندر کے انہدام کے بعد یکا یک بھیم آرمی کے ابھرنے اور اس کی جانب سے اس ضمن میں پرتشدد مظاہرہ کئے جانے جیسے دیگر متعدد اہم موضوعات پر خوروخوض ہونے کے امکانات ہیں۔قابل ذکر ہے کہ بی ایس پی نے رویداس مندر کے انہدام پر پرتشدد مظاہرے سے خود کو دور رکھنے کا اعلان کیا تھا لیکن مندر کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کیا تھا۔
بی ایس پی ذرائع نے بتایا کہ رویداس مندر کے انہدام پر بھیم آرمی کی جانب سے احتجاج کے بعد سے اسے مل رہی عوامی مقبولیت سے پارٹی تھوڑی پریشان ہے اور اب بی ایس پی اپنے حامیوں کو پیغام دینا چاہتی ہے۔ساتھ ہی میٹنگ میں بھیم آرمی کے ذریعہ اس معاملے میں حاصل کی گئی مقبولیت کا توڑ نکالنے کے حکمت عملی پر بھی غور و خوض کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ بھیم آرمی کو تیزی کے ساتھ دلت عوام میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ جس سے بی ایس پی کے سینئر لیڈران کافی فکر مند ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
