ضلع کے 9 اسمبلی حلقوں میں مہا یوتی کے امیدوار کامیاب ہوتے ہی ”ماموں“ ٹینشن فری !

ناندیڑ:3دسمبر ( ورقِ تازہ نیوز) ریاست بھر میں اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے، جہاں مہا یوتی کے امیدواروں نے برتری حاصل کرتے ہوئے فتح حاصل کی۔ ناندیڑ ضلع کے 9 اسمبلی حلقوں میں بھی مہایوتی کے امیدوار کامیاب رہے۔ البتہ لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں معمولی فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث ”گڑھ آلا پن سِنہہ گیلا( قلعہ فتح ہوا لیکن شیرچلاگیا)“جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ سابق وزیر اعلیٰ (ماموں) اشوک راو¿ چوہان کے دور میں، جب وہ وزیر اعلیٰ تھے، ان کی مرضی کے مطابق 9 اسمبلی حلقوں میں امیدوار منتخب ہوئے تھے، جس کی وجہ سے ان کا پلڑا بھاری رہا تھا۔ کچھ ایسا ہی اس بار بھی دیکھنے کو ملا۔ ان کی بیٹی ایم ایل اے شری جیا سمیت مہا یوتی کے تمام امیدوار کامیاب ہونے پر ”ماموں“ کی پریشانی ختم ہونے کی بات ضلع میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔

ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ رکن راجیہ سبھا اشوک راو¿ چوہان کے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کے بعد انہیں فوری طور پر راجیہ سبھا کی امیدواری دی گئی۔ اس سے امید کی جا رہی تھی کہ ناندیڑ ضلع سے بی جے پی کا لوک سبھا کا امیدوار کامیاب ہوگا۔ لیکن ان کے شامل ہونے کے بعد زیادہ وقت نہیں گزرا تھا اور ریاست میں اس وقت مہا وکاس اگھاڑی کا اثر نمایاں تھا۔ ساتھ ہی، اس وقت ”جرانگے فیکٹر“بھی کام کر رہا تھا، جس کے باعث لوک سبھا امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، چوہان نے اسمبلی انتخابات میں انتہائی محتاط انداز میں قدم اٹھائے اور حکمتِ عملی اپنائی۔ان کی بیٹی ایڈوکیٹ شری جیا کی کامیابی پر شک ظاہر کیا جا رہا تھا۔

ہر صورت میں شری جیا کو شکست دینے کے لیے مہا وکاس اگھاڑی کے تمام رہنماو¿ں نے کوششیں کیں۔ تلنگانہ سے بھی مدد فراہم کی گئی، لیکن اشوک راو¿ چوہان کی باریک بینی سے کی گئی منصوبہ بندی کی وجہ سے آخر کار شری جیا کامیاب ہوئیں۔ یہی نہیں بلکہ ضلع کے 9 اسمبلی حلقوں میں مہا یوتی کے تمام امیدوار کامیاب رہے۔لوک سبھا ضمنی انتخاب کے امیدوار ڈاکٹر سنتوک ہمبرڈے بھی کامیاب ہو سکتے تھے، لیکن انہوں نے 9 اسمبلی حلقوں میں مہا یوتی کے امیدواروں کی انتخابی مہم پر توجہ دی اور خود صرف چند حلقوں میں مہم چلائی۔

اگرچہ وہ معمولی فرق سے ہار گئے، لیکن بی جے پی رہنماوں نے اس شکست کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔9 اسمبلی حلقوں میں مہا یوتی کے تمام امیدواروں کی کامیابی سے اشوک راو¿ چوہان کی ریاست اور مرکز میں اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اس کے پیش نظر انہیں جلد ہی مرکزی کابینہ میں وزارت ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ چوہان نے بھوکر کے علاوہ حدگاو¿ں، دیگلور، اور نائیگاو¿ں میں بھی رابطے کیے تاکہ مہا یوتی کے امیدوار کامیاب ہو سکیں۔

حدگاو¿ں کے تامسہ میں انہوں نے عوامی اجلاس بھی منعقد کیا، جس کا مثبت اثر پڑا اور مہا یوتیکے امیدوار بابوراو¿ کوہلیکر کامیاب ہوئے۔دیگلور حلقہ میں بھی ان کا منتخب کردہ امیدوار کامیاب ہوا۔ بھوکر حلقہ میں چونکہ ان کی بیٹی امیدوار تھیں، اس لیے انہوں نے زیادہ وقت وہیں دیا۔ دیگر 6اسمبلی حلقوں پر بھی ان کی گہری نظر تھی، جہاں مہا یوتی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ اس کامیابی کے بعد مہا وکاس اگھاڑی کے رہنماو¿ں نے ضلع میں آ کر اشوک راو¿ چوہان پر تنقید کی، لیکن چوہان نے کوئی جواب نہیں دیا۔

فتح کے بعد انہوں نے مہا وکاس اگھاڑی کو سخت جواب دیا اور اپنی بیٹی کی کامیابی کے جشن میں اہلِ خانہ کے ساتھ موسیقی کی دھن پر رقص کیا۔ اس لیے کہا جا رہا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ عرف ”ماموں“ اب ” ٹینشن فری“ ہو چکے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading