صحافی خشوگی کی منگیترکا پہلا ٹی وی انٹرویو پڑھئے

استنبول۔27 اکتوبر۔ مقتول صحافی جمال خشوگی کی منگیتر نے واقعہ کے بعدپہلے ٹی وی انٹرویو میں مطالبہ کیا ہے کہ جمال خشوگی کے قتل میں ملوث اعلی ٰعہدیداروں سے لےکرنچلی سطح کے ذمہ داروں تک،سب کوانصاف کے کٹہرے میں لایاجائے۔استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل ہوئے صحافی کی ترک نژاد 38 سالہ منگیتر ہیٹس کینگز نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ قتل کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچتے دیکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، انہیں صدرٹرمپ کی طرف سے امرےکہ آنے کاپیغام ملا لیکن یہ عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک چال ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جمال خشوگی جاری تنازعہ کی وجہ سے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں جانا نہیں چاہتے تھے اور انہیں اس پر شدید تحفظات بھی تھے۔خشوگی کی قونصل خانے میں گمشدگی کے بعد سعودی عرب نے کوئی تعاون نہیں کیا۔ہیٹس کینگز شادی کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر رو پڑی تھیںانہوں نے کہا کہ ”قونصل خانے جاتے وقت خشوگی نے مجھے باہر کھڑا رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے اپنے دونوں موبائل دےدےئے تھے، وہ اندر ہماری شادی کے حوالے سے ضروری کاغذات لینے کے لیے گئے تھے“۔ یاد رہے کہ امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز کے لیے کام کرنے والے خشوگی سعودی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے تھے، انہیں 2 اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں قتل کیا گیا جس کا اعتراف سعودی حکام بھی کرچکے ہیں۔سعودی عرب نے صحافی جمال خشوگی کی قونصل خانے میں موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ استنبول کے قونصل خانے میں ا±ن کا جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد وہاں موجود افراد سے ہاتھا پائی ہوئی اور پھر انہیں قتل کردیاگےا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading