شیخ المشائخ محدث قندہاری ادکنی شیخ العرب والعجم حضرت شاہ محمد رفیع الدین قندھاری رح

۔

از فقیر قاری شاہ محمد رفیع الدین فاروقی الرفاعی القادری ۔(خلیفہ حضرت قاری شاہ محمد تاج الدین عمر پاشا فاروقی الرفاعی القادری)

وطن عزیز ہندوستان میں کئی صوفیہ کرام تبلیغ اسلام کی اشاعت کے لیےفکرمند رہے اور ایک بڑی تعداد میں ہندوستان تشریف لائے۔ اپنے علم سے اس خطے میں قیام پذیر ہوکر یہاں کے فضاکو معطر  خوشنود بنا دیا۔ لیکن حضرت محدث کبیر شیخِ عرب والعجم حضرتؒ شاہ محمد رفیع الدین قندھاری قبلہ رح نے اپنے علم کے زریعہ نہ کہ صرف ملک ہندوستان بلکہ ملک عرب میں بھی جو اپنے بڑے اکابر بزرگوں سے سیکھا تھا اسکو اس سے آراستہ ومعمور کیا۔
آپ کی ولادت 19 جمادی الثانی 1164 ھ کو تعلق قندھار شریف میں بعد نماز فجر عمل میں آئی۔آپ کے والدِ بزرگوار جو ایک عالم دین تھے ،آپ نے حضرت حاجی سیاہ سرور مخدوم رح سے بشارت حکم آ پ کا نام غلام رفاعی عرف محمد رفیع الدین رکھا ۔
بچپن ہی سے چہرہ مبارک سے بزرگی کی علامات ظاہر تھی اور نسبت حاجی سیاہ سرور مخدوم رح سے رہی۔
آپ تحصیل علم کے لیے با حکم حاجی سیاہ سرور مخدوم رح اورنگ آباد تشریف لے  ۔ حضرت مولانا قمرالدیں نقشبندی رح اور دیگر علماء اورنگ آباد کے 9 سال خدمت میں رہےکر استفادہ فرمایا۔ مدینہ منورہ میں دوران قیام اپنا درس حدیث مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جاری فرمایا۔ وہاں موجود لوگوں نے آپ سے حدیث پڑھ کر سند حدیث حاصل فرمائے ۔اسی سلسلے میں سند رکھیں والے محدث حضرت علامہ یوسف نبہانی رح جو جامعہ ازہر میں شیخ حدیث کے عہدہ  پر فائز رہے وہ بھی آپ سند رکھتے ہیں ۔اس طرح جامعہ ازہر میں آپ کی سند حدیث جاری ہوئی۔ہندوستان کے علماء فرنگی محل سے حضرت مولانا عبد الباقی بھی اس سند کے حامل رہے۔

اشرفی سلسلے کے اکابر علماء حضرت سید اشرف حسین اشرفی الجیلانی قبلہ رح(بڑے بھائی و مرشد اعلیٰ حضرت سید علی حسین اشرفی میاں  قبلہ رح)بھی سند کے حامل رہے۔آپ فارسی شاعری کے بھی فن ماہر فن تھے تذکرہ نوبہر شعراء فارسی کے علم الکراچی میگزین نے بھی اس بارے بخوبی بتایا ہے۔


آپ علم ظاہر کے بعد علم باطنی و تزکیہ نفس کے لیے پیر مرشد کے تلاش میں رہے اور فقر ہند حضرت خواجہ رحمتہ اللہ نائب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ قدس سرہ کے دست اقدس پر بیعت فرمائے۔ 1 سال کے مراقبے و مشاہدے کے بعد حضرت خواجہ رحمتہ اللہ قدس سرہ نے آپ کو سلسلہ قادریہ چشتیہ نقشبدیہ رفاعیہ شوتریہ سہروردیہ اویسیہ مدریہ فردوسیہ و غیرہ جملہ 14 سلاسل حق میں خلافت و اجازت فرمائے۔بعد واپسی زیارت حرمین الشریفین آپ نے قندھار شریف میں خانقہ بانام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت سیدنا غوث الثقلین اور حضرت سیدنا شاہ نقشبند قدس سرہ تعمیر کروائی ۔اس خانقہ میں آپ درس تدریس فرماکر لاکھوں بندگانِ خدا کو اللہ کے وحدانیت اور بندوں کو اللہ تعالیٰ سے جوڑا۔ آپ کے کئی تصنیف کا ذکر بھی تاریخ کے کتابوں میں ملتا ہے۔آپ ایک گہری مصنف بھی رہے۔آپ کے 3 ازواج اونسے 5 صاحبزادے اور 5 صاحبزادیاں تھی۔


جو اپنے وقت کے ایک جید عالم اور صوفی رہے۔آج بھی حضرت شیخ المشائخ حضرت مولانا شاہ رفیع الدین قندہاری فاروقی الرفاعی القادری چشتی نقشبندی قدس سرہ کے خانوادے میں وہی تقویٰ اور پرہزگری کے ساتھ حضرت شاہ رفیع الدین قندہاری قبلہ رح کے طریقوں پر چلتے ہوئے لوگوں کو ظاہری وا باطنی علوم سے فیضیاب بندگانِ خدا آج بھی ہوتے ہیں ۔اللہ کی معرفت اور ویحدنیت اور بزرگی کا درس دیا جاتا ہے۔ جسکو حضرت قبلہ کے سجادہ نشیں قاری شاہ محمد تاج الدین عمر پاشا فاروقی الرفاعی القادری حافظ اللہ اپنے آبا وا اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بیت کرتے ہیں۔


حضرت شاہ رفیع الدین قندہاری قبلہ کا عرس شریف ہر سال 15،16،17 رجب المرجب کو بڑے ہی احتشام کے ساتھ قندھار شریف میں قدیم روایت کے ساتھ صاحب سجدہ نشین حضرت قاری شاہ محمد تاج الدین عمر پاشا صاحب فاروقی القادری الرفاعی کے سرپرستی میں منایا جاتا ہے۔اس سال بھی بڑے ہی اہتمام کے ساتھ 16,17,18 جنوری 2025 کو بڑے اہتمام کے ساتھ منایا گیا۔اللہ تعالیٰ ہم تمام کو حضرت کے فیضان سے فیضیاب فرمائے اور تعلیمات کو سمجھ کر عمل کرنے والا بنائے ۔ آمین ثمہ آمین

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading