سنبھل کے سرکل افسر پر مذہبی جلوس کے دوران وردی میں ’گدا‘ لے کر چلنے کا الزام، نوٹس جاری

سنبھل تشدد کے بعد سرخیوں میں آئے سرکل افسر انوج چودھری پولیس وردی میں ہنومان کی گدا لے کر گھومنے کی وجہ سے مشکل میں پڑ گئے ہیں۔ اس حوالے سے ان کے خلاف سابق آئی پی ایس اور آزاد ادھیکار سینا کے قومی صدر امیتابھ ٹھاکر نے ڈی جی پی سے شکایت کی تھی۔ شکایت کے بعد ڈی آئی جی نے سرکل افسر (سی او )کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ واضح ہو کہ نئے سال کے موقع پر کھگّو سرائے علاقہ میں کارتیکیہ مہادیو مندر کی رتھ یاترا کے دوران انوج چودھری ہنومان بن کر گدا لے کر آگے آگے چل رہے تھے۔


امیتابھ ٹھاکر نے ڈی جے پی سے کی گئی شکایت میں انوج چودھری پر الزام لگایا ہے کہ ’’انوج چودھری نے اپنی پولیس وردی کا استعمال کرتے ہوئے ڈیوٹی کے دوران مختلف مذہبی سرگرمیوں میں شرکت کی۔ ان میں مذہبی جلوس میں گدا اٹھانے، بھجن گانے اور مندروں میں مذہبی رسومات میں شامل ہونے جیسے عمل شامل ہیں۔‘‘ انہوں نے آگے کہا کہ ’’یہ سرگرمیاں اتر پردیش گورنمنٹ سرونٹ کنڈکٹ رولز 1956 کے رول 3 اور 4 کے ساتھ ساتھ ڈی جی پی کے 6 اکتوبر 2014 کے سرکلر کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔‘‘


امیتابھ ٹھاکر نے شکایت میں انوج چودھری کو فوری طور پر کہیں اور ٹرانسفر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے خلاف کسی سینئر آفیسر سے تحقیقات کی بھی مانگ کی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے انوج چودھری کی جانب سے مسلسل ایسے عمل کے باوجود انہیں نظر انداز کرنے پر ایس پی سنبھل کرشنا کمار کی ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ امیتابھ ٹھاکر نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’’میں آپ کی توجہ آپ کے دفتر سے جاری کردہ لیٹر نمبر ڈی جی-64/2014 مورخہ 06/10/2014 کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ اس کی شِق 3 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کوئی بھی شخص یونیفارم کے قائم کردہ اصولوں اور معیارات پر مکمل طور پر عمل کرے گا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ایڈیشنل ایس پی نے جانکاری دی ہے کہ انوج چودھری کو بیان درج کرانے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ واضح ہو کہ اس سے قبل سی او انوج چودھری کا بھجن گاتے ہوئے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کافی مشہور ہیں۔ انوج چودھری اکثر اپنی مختلف سرگرمیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپلوڈ کرتے رہتے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading