شہریت قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف الگ الگ انداز میں مظاہرے پورے ملک میں جاری ہیں۔ کہیں پوسٹر و بینر کے ساتھ مظاہرے ہو رہے ہیں تو کہیں سڑکوں پر پینٹنگ کے ذریعہ احتجاج درج کیا جا رہا ہے، کہیں روزہ و افطار کا اہتمام کیا جا رہا ہے تو کہیں سلسلہ وار بھوک ہڑتال جاری ہے۔ اس درمیان سوشل میڈیا پر ایک ایسے مندر کی تصویر وائرل ہونے لگی ہے جس کی دیواروں پر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف نعرے لکھے ہوئے ہیں۔
No NRC No CAA graffiti in small town of Nargund, Gadag District. Graffiti on temple walls, govt school walls.
Anti CAA Graffiti is spreading across Karnataka now. pic.twitter.com/zCiObHGxmo— Nagarjun Dwarakanath (@nagarjund) January 16, 2020
دراصل کرناٹک کے ایک مندر کی کچھ تصویریں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہیں جس کی دیواروں پر ’نو این آر سی، نو سی اے اے، نو این پی آر‘ لکھا ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک اسکول کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر ڈالی گئی ہے جس کی دیوار پر بھی شہریت ترمیمی قانون مخالف اسی طرح کے نعرے لکھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مندر کرناٹک کے گڈگ ضلع واقع نارگنڈ علاقے کا ہے اور اس کو ناگارجن دوارکاناتھ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے 16 جنوری کو شیئر کیا گیا ہے۔ ان تصویروں کے ساتھ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اس طرح کے نعرے پورے کرناٹک میں جگہ جگہ لکھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ دن بہ دن تیز ہوتا جا رہا ہے۔ خصوصی طور پر خواتین نے آگے بڑھ کر شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی و این پی آر کے خلاف ہو رہے احتجاجوں کی قیادت کرنی شروع کر دی ہے۔ دہلی کے شاہین باغ، اتر پردیش کے منصور علی پارک اور بہار کے سبزی باغ علاقہ میں تو گزشتہ کئی دنوں سے بڑی تعداد میں خواتین چوبیس گھنٹے دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک شہریت ترمیمی قانون واپس نہیں لیا جائے گا وہ نہیں اٹھیں گی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو