کرناٹک میں بائیں بازو کی جماعتوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بنگلور میں احتجاج
منگلور: شہریت ترمیمی قانون (سی اےاے) پر الگ الگ سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں کے دھرنے و مظاہرے کو دیکھتے ہوئے کرناٹک میں احتیاط کے طور پر حکم امتناعی نافذ کیا گیا ہے۔ یہ قدم قانون کے علاوہ حالات کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ سٹی پولس کمشنر بھاسکر راؤ نے بدھ کی رات ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ حکم فوری اثر سے جمعرات صبح چھ بجے سے 21 دسمبر آدھی رات تک نافذ رہے گا۔ اس دوران کسی بھی سیاسی پارٹی، تنظیم اور افراد کے گروپ کو کسی بھی طرح کے دھرنا و مظاہرہ یا تحریک کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس حکم میں لوگوں کو کسی بھی طرح کے دھرناو مظاہرہ، پانچ سے زائد افراد کے ایک ساتھ جمع ہونے، مہلک ہتھیار لے جانے پر پابندی ہے۔ اس دوران بائیں بازو پارٹیوں- مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی نے شہر میں مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ اس حکم پر سخت اعتراض کرتے ہوئے سابق نائب وزیر اعلی اور سینئر کانگریسی لیڈر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ بنگلور میں تشدد کا کسی خدشہ کے بغیر حکم کو لگایا جانا حکومت طاقتوں کا بے جا استعمال کر ہی ہے۔
Karnataka: Left parties hold protest in Bengaluru against the amended #CitizenshipAct & #NRC. Visuals from Mysore Bank Circle area. Section 144 is imposed in the city. pic.twitter.com/f3LIjzqOHu
— ANI (@ANI) December 19, 2019
دہلی-گروگرام ایکسپریس وے پر لگا 8 کلومیٹر طویل جام، ایک ایک گاڑی کی ہو رہی چیکنگ
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف لال قلعہ سے مارچ نکالا جانا تھا، لیکن پولس نے اس کی اجازت نہیں دی اسی کو دیکھتے مارچ نکلنے سے قبل پولس نے مظاہرین کو روکنے کے لئے ایک ایک گاڑی کی چیکینگ کر رہی ہے جس کے چلتے دہلی-گروگرام ایکسپریس وے پر 8 کلومیٹر طویل جام لگ گیا ہے۔
Long jam at Delhi-Gurugram expressway due to police barricading. #CitizenshipAct pic.twitter.com/Ui4Ae9dCwH
— ANI (@ANI) December 19, 2019
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف كلبرگی میں مظاہرہ، 20 افراد کو حراست میں لیا
کرناٹک کے كلبرگی میں دفعہ 144 کے باوجود لوگوں نے شہریت ترمیم قانون کے خلاف مظاہرہ کیا ہے، پولس نے 20 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
چندی گڑھ میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف سڑکوں پر اترے لوگ
ملک بھر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں، چندی گڑھ میں لوگ شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کے خلاف بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اترے ہیں۔
Muslim organisations in Chandigarh hold protest against #CitizenshipAct and National Register of Citizens. pic.twitter.com/HpjLEctcQ9
— ANI (@ANI) December 19, 2019
شہریت قانون کے خلاف مارچ نکلنے سے قبل لال قلعہ کے آس پاس دفعہ 144 نافذ
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف لال قلعہ سے مارچ نکالا جانا تھا، لیکن مارچ نکالے جانے سے قبل لال قلعہ کے آس پاس دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
آج شہریت ترمیمی قانون کے خلاف لیفٹ نے آج بھارت بند بلایا ہے، پٹنہ اور دربھنگہ میں ٹرینوں کو روکا گیا ہے، لوگ ریلوے ٹریک پر اتر کر مظاہرہ کر رہے ہیں، ملک کے دوسرے حصوں میں بھی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ جاری ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
