شمس الرحمن فاروقی کاانتقال‘ اردو کائنات کا عظیم نقصان‘ ناندیڑ ‘ حیدرآباد وممبئی کے قلمکاروں کا خراج

ناندیڑ:25ڈسمبر۔(ورق تازہ نیوز)اردو زبان وادب کے عالمی شہرت یافتہ نقاد ‘شاعر ‘ناول نگار شمس الرحمن فاروقی کے انتقال پُرملال پر مراٹھواڑہ اور حیدرآباد کے ادیبوں ‘ شاعروں نے اپنے شدید غم و افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاروقی صاحب کاانتقال اردو دنیا کاناقابل تلافی نقصان ہے ۔اردو ادب میں جو خلا ءپیدا ہوا ہے اس کاپُرہونا ممکن نہیں ہے ۔

آج جمعہ25ڈسمبرکو رات سات بجے روزنامہ”ورق تازہ“ کے دفتر میں معروف شاعر و نقاد ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی کی صدارت میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی جس میں مہمان کے طور پر حیدر آباد سے تشریف لائے شاعر عزیز اثر نے شرکت کی ۔

نشست میں بزرگ شاعر محمود علی سحر‘ محمدتقی مدیراعلی ورق تازہ ‘ عبدالملک نظامی ‘ ڈاکٹر محمد رافع ‘ محمد نقی شاداب( مدیر) کے علاوہ چند ادب دوست احباب نے شرکت کی ۔ علاو ہ ازیں حیدر آباد سے پروفیسر میر تراب علی ‘ڈاکٹرمجید بیدار ‘ ممبئی سے ڈاکٹر کلیم ضیاءنے سیل فون پر محمدتقی سے فاروقی صاحب کے تعلق سے اظہار تعزیت کیا

۔ صدرنشست ڈاکٹرفہیم احمد صدیقی نے اپنی تقریر میںشمس الرحمن فاروقی کو ذولسان نہیں بلکہ کثیر اللسان ادیب بتاتے ہوئے کہا کہ وہ بیک وقت نقاد ‘محقق ‘ مبصر ‘ شاعر ‘ناول نگار اورماہر علم عروض تھے ۔انھوں نے اردو ادب میں جدیدیت کے رجحان کونہ صرف فروغ دیا بلکہ اسے حیات دائمی عطاءکی ۔ترقی پسند نظریات کے مقابل جدید رجحانات کو ابھارا ۔ ان کی وفات اردو کائنات کاعظیم نقصان ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کوبلندکرے ۔ انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔

محمد تقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھ ۔ ترقی پسند اورمارکسی تنقید کے جواب میں جدید تنقیدی نظریات کووضع کیا ۔چنانچہ ان کے ادبی نظریات سے 1960 کے بعد نئے لکھنے والے بے حدمتاثر ہوئے تھے ۔ ماہنامہ”شب خون“ جوالہ آباد سے شائع ہوتاتھا وہ اس کے مدیر تھے اورجدید ادبی رجحانات کے تحت جو تخلیقات منظرعام پرآتی تھیں انھیں اپنے پرچے میںخصوصیت سے شائع کرتے تھے ۔ اس طرح جدید ادیبوں اورشاعروں کی ایک بڑی ٹیم کوتیار کرنے میںفاروقی کی کاوشوں ‘ محنتوں سے کوئی انکار نہیںکرسکتا ہے ۔ یوںتو شمس الرحمن فاروقی کئی تصانیف تخلیق کی ہیں شعرغیرشعر اور نثر 1973‘ شعر شور انگیز (تین جلدیں 1991) ‘ تفہیم غالب‘ ناول ”کئی چاند تھے سرآسمان“ کوکافی شہرت حاصل ہوئی ۔خدا اُن کی مغفرت کرے ۔

دکن کے منفرد شاعرعزیزاثرجو حیدر آباد سے تشریف لائے نے کہا کہ شمس الرحمن نے جدیدیت کی حمایت میں جو تحریک چلائی تھی اس سے ادب میں ایک انقلاب آیاتھا ۔ اُن کاہم سے ہمیشہ کےلئے بچھڑجانا دنیائے ادب کا عظیم نقصان ہے ۔ پروفیسر تراب علی نے حیدر آباد سے محمدتقی کوفون پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ شمس الرحمن فاروقی اردو ادب کابڑ ا نام ہے ۔

انھوں نے اردو ادب کی تبلیغ ‘اشاعت اورتشہیر میں تن من دھن سے ناقابل فراموش کارنامہ انجام دیا ۔ وہ ایک نقاد ‘مبصر ‘ناول نگار اور اردو کے مجاہد تھے ۔خدا اُن کی مغفرت کرے ۔ ممبئی سے ڈاکٹر کلیم ضیاء نے ڈاکٹرفہیم صدیقی سے فون پرگفتگو کرتے ہوئے فاروقی کوناقابل فراموش ادیب‘ نقاد اور فکشن نگار بتاتے ہوئے تعزیتی کلمات کااظہار کیا ۔حیدرآباد سے ڈاکٹرمجید بیدار نے محمدتقی سے فون پررابطہ کرکے شمس الرحمن فاروقی کو اپنا خراج عقیدت پیش کیا ۔

انھوں نے ماہنامہ ”شب خون“ کے حوالے سے فاروقی کی ادبی خدمات کا اعتراف کیااورکہا کہ مستقبل میں کئی اچھے ادیب و شاعر پیدا ہوں گے لیکن فاروقی جیسا نہیں ہوسکے گا۔

عبدالملک نظامی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ شمس الرحمن فاروقی نے حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی کی شخصیت اورفن پرجو مقالہ لکھا تھا اسلئے پوری دنیا کی نظامی برادری اسے قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ اس موقع پر محمودعلی سحر اور ڈاکٹر رافع نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading