دہلی کے شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ شاہین باغ میں مظاہرہ کر رہے لوگوں سے بات چیت کے بعد مذاکرہ کاروں نے اپنی سیل بند رپورٹ سپریم کورٹ کے حوالے کر دی ہے۔ پیر کے روز رپورٹ ملنے کے بعد سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کے لیے آئندہ تاریخ 26 فروری مقرر کی۔ اب بدھ کے روز اس معاملے میں اگلی سماعت ہوگی۔
Shaheen Bagh matter: The three interlocutors have submitted their report in a sealed cover to the Apex Court. Supreme Court has adjourned the matter to Wednesday, February 26. pic.twitter.com/Mr64GdpCDR
— ANI (@ANI) February 24, 2020
قابل ذکر ہے کہ شاہین باغ میں مظاہرہ کے بعد دہلی کو نوئیڈا سے جوڑنے والی سڑک بند ہے۔ اس کو لے کر سپریم کورٹ میں عرضی دی گئی ہے۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سنجے ہیگڑے، سادھنا رام چندرن اور وجاہت حبیب اللہ کو مذاکرہ کار مقرر کیا تھا۔ سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندرن نے شاہین باغ جا کر مظاہرین سے کئی بار بات چیت بھی کی۔ کافی غور و خوض اور شاہین باغ کے آس پاس کے علاقوں کا جائزہ لینے کے بعد تینوں مذاکرہ کاروں نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو سونپی۔
اس سے قبل اتوار کو ہی مذاکرہ کاروں کی مدد کر رہے سابق انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے شاہین باغ میں سڑک بند کو لے کر ایک حلف نامہ داخل کیا تھا۔ حلف نامے میں وجاہت حبیب اللہ نے روڈ بند ہونے کے لیے پولس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سی اے اے کے خلاف شاہین باغ میں مظاہرہ پرامن چل رہا ہے۔ پولس نے شاہین باغ کے آس پاس پانچ راستوں کو بند کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ سی اے اے-این آر سی کے خلاف گزشتہ 15 دسمبر کو جامعہ نگر میں ہوئے پرتشدد مظاہرہ کے بعد سے دہلی-نوئیڈا کو جوڑنے والی سڑک پر شاہین باغ علاقے میں احتجاجی مظاہرہ چل رہا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو