تازہ ترین خبر ہے کہ ” کپل گجر ” نامی دہشتگرد جس نے NrC اور شہریت قانون کےخلاف احتجاج کررہے دہلی کے شاہین باغ پر بندوق سے فائرنگ کی تھی اور گرفتار ہوا تھا اب اسے باضابطہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل کرلیاگیاہے،

آر۔ایس۔ایس کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کٹر ہندوتوا کے دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور یہ برسراقتدار جماعت ملک میں منصوبہ بند تشدد اور ہندو۔مسلم فسادات کو پروموٹ کرنے کے منصوبے پر کام کررہی ہے، اس کے ليے مزید کونسے ثبوت چاہییں؟
موجودہ برسراقتدار جماعت مسلمانوں کےخلاف صرف متعصب نہیں بلکہ خونی پالیسیوں پر یقین رکھتی ہے اس کا ادراک تبھی ہوگیا تھا جب بھاجپا نے بم۔بلاسٹ میں ماخوذ ” سادھوی پرگیہ ” کو اپنی پارٹی سے ہندوستان کی پارلیمنٹ میں پہنچایا.
#KapilGurrjar the one who opened fire on #CAA #NRC protestors in #Jamia has officially taken membership on #BJP in Ghaziabad today. pic.twitter.com/oFJ7DcH82v
— priyanktripathi (@priyanktripathi) December 30, 2020
یہ کتنی تلخ اور تکلیف دہ حقیقت ہیکہ، موجودہ بھارتی گورنمنٹ پوری بے شرمی کےساتھ مسلمانوں کو ہندوستان میں دوسرے درجے کا شہری بنانے، ان کے حقوق چھین لینے، انہیں مظلوم رکھنے کے لیے کام کررہی ہے، یہ حکومت کھلے عام عسکریت پھیلانے والے ہندوتوا دہشتگردوں کو اپنی پارٹی میں شامل کررہی ہے، شاہین باغ پر حملہ کرنے والا بھاجپا میں داخل کیا جارہاہے اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت چاہیے کہ دہلی میں مسلمانوں کےخلاف فسادات آر۔ایس۔ایس اور بھاجپا کی پلاننگ کا حصہ تھے، کپل گجر سے لیکر کپل مشرا تک، دہلی میں خونریزی پھیلانے والے ” بھارتیہ جنتا پارٹی ” میں سرکاری اور سیاسی تحفظ کےساتھ موجود ہیں.

اور جس کمیونٹی پر حملہ ہوا، جس کو تاراج کیاگیا وہ صفائیاں دے رہےہیں،ابھی تک اپنا بچاؤ بھی کرنا مشکل ہورہاہے، ان کے جوانوں کو اٹھا اٹھا کر جیلوں میں بند کیا جارہاہے، دہلی فساد متاثرہ علاقوں کا لڑکا شاہ رخ جس نے اپنا دفاع کیا اس کےخلاف بولنا پڑتا ہے کن لوگوں کے خوف سے؟ جو اپنے بندوق بردار دہشتگردوں کو گلے لگا رہےہیں، اس کےعمل سے اختلاف کرنا ہے، کیجیے اس کا سپورٹ نہیں کرناہے آپکی مرضی، لیکن ایسے تشدد پسندوں کی وجہ سے بلکل نہیں
میرا یہ سوال ہے قانون والوں سے کہ اگر کپل گجر ایک احتجاج گاہ پر بندوق چلا کر بھی برسراقتدار پارٹی کی رکنیت کا مستحق ہے تو پھر شاہ رخ اپنے دفاع کی وجہ سے جیل میں کیوں ہے؟ میں یہ نکتہ ہمارے ملک کی مؤقر عدالتوں کے ماہرینِ قانون سے سمجھنا چاہتاہوں براہ کرم مجھے بتائیے کہ ان دونوں کو کن بنیادوں پر سزا اور جزا سے نوازا گیا ہے؟ اب جب کھلے عام ایسی دوہری پالیسیاں سامنے آئیں گی تو مسلم نوجوان کی نفسیات کس طرح تشکیل پائےگی؟
یہ ہے سیکولر انڈیا، یہ ہے نیا بھارت، چار دن چیخنے چلانے کےبعد سب کچھ نارمل ہوجائے گا، پھر کوئی نیا شرجیل امام پھنسایا جائےگا، پھر خالد سیفی، عمر خالد، گل فشاں اور آصف کو بلی کا بکرا بنایاجائے گا، اور کپل گجر جیسے اصل مجرمین کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اپنی آغوش میں لے لے گی،
ابھی مدھیہ پردیش میں مساجد پر حملے کرکے ہندوتوا کی بھیڑ اپنی پیاس بجھا رہی ہے، اور بھاجپا بندوق بردار کو پارٹی میں شامل کررہی ہے، یہ سب اتفاق ہے؟ یا کسی اگلی پیشقدمی کا حصہ؟
یہ کھلی ہوئی عسکریت پھیلانے کی کوششیں، یہ خانہ جنگی بھڑکانے کی تیاریاں ، یہ دہشتگردی پوری دنیا دیکھ رہی ہے، یہ سب ریاست اور ریاستی مشنریوں کی سرپرستی میں ہورہاہے، نسل پرست برہمنوں کے یہ اقدامات کیوں نظر نہیں آتے؟
✍: سمیــع اللّٰہ خان
۳۰ دسمبر بروز بدھ ۲۰۲۰
ksamikhann@gmail.com