سنا ہے کہ شاہین باغ میں ہولی جلائی گئی ہے۔ اگر مسلمانوں کے ذریعے اس طرح کے شرکیہ اعمال دستور کے تحفظ کے لیے انجام دیے جاتے رہیں گے تو ناکامی بہر صورت مقدر ہوگی۔ مسلمانان ہند اس تحریک میں اس لیے شامل ہیں تاکہ وہ اپنے دین وتشخص کے ساتھ اس ملک میں سانس لیتے رہیں، لیکن انھی میں سے بعض لوگ اپنے دین وتشخص کو تحریک کے نام پر قربان کررہے ہیں۔
اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ ہم دستور کے تحفظ کے لیے لڑیں اور اکثریت کے تمام پسندیدہ مظاہر کو مسترد کردیں۔ اعتدال یہ نہیں ہے کہ ہم سیکیولر ازم کی آڑ میں اکثریت کی معاشرتی ودینی روایات کو قبول کرلیں۔ ایسی جاہلانہ ومشرکانہ حرکتوں سے بہتر ہے کہ مسلمان اپنے ایمان ویقین کے ساتھ ڈٹینشن کیمپوں میں جاکر اپنے خالق کے سامنے سرخروئی حاصل کرلیں۔ ہمیں یہ منظور ہے کہ ہم سے ریاستی حقوق چھین لیے جائیں، لیکن یہ منظور نہیں ہے کہ ہم ایمان کی دولت سے محروم ہوجائیں، مگر یہاں افسوس کی بات یہ ہے کہ ریاستی حقوق کی لڑائی لڑنے والے چند افراد رضاکارانہ طور پر اپنے ایمان کا کفر وشرک سے سودا کر رہے ہیں۔ یہ عمل اگر جاری رہا تو پھر ایسے باغوں اور ان کے مالیوں سے مکمل بیزاری وبراءت کے اظہار کے لیے امت کو تیار رہنا چاہیے۔
یہ نہ کہا جائے کہ اسی لیے تحریک کہ قیادت علماء کو کرنی چاہیے تھی، اس لیے کہ ان کو قیادت سے کسی نے روکا نہیں تھا، وہ منظر نامے سے خود ہی غائب رہے، جب جامعہ اور علیگڑھ نے قربانی دی تو بھی ان میں سے بہت سے لوگ مصلحت کی دبیز چادر اوڑھے رہے۔ بعد میں جب تحریک نے عروج حاصل کرلیا تو کچھ افراد انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوانے کے لیے آگے آگئے، اگر واقعی تحریک کے عروج کے بعد کسی کی آنکھ کھلی ہے، تو بھی تحریک کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں، یہ بھی تو ممکن تھا کہ دینی طبقہ تحریک کے مسلم چہروں کی راہنمائی کرتا رہتا۔ نیز کیا مسلمان اتنا بد عقیدہ ہے کہ اگر ایک عالم کی رفاقت اس کو نصیب نہ ہو تو سیدھا مشرک بن جائے گا۔ کیا عام مسلمانوں میں اتنی تمیز نہیں ہے کہ وہ ایمان وشرک کے درمیان فرق کرسکیں۔
یہ وقت جہاں احتیاط وحزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا ہے، وہیں ایسے تمام افراد کو پچھلی سیٹوں پر بٹھانے کا بھی ہے جو کسی بھی اعتبار سے اپنی نا اہلیت وقتا فوقتاً ثابت کرچکے ہیں۔ خواہ یہ نا اہل فراد کسی باغ کے قائد ہوں یہ پھر کسی اجڑے گلستاں کے۔