دہلی واقع شاہین باغ مظاہرہ کا خمار پورے ہندوستان میں چھایا ہوا ہے اور اس درمیان خواتین احتجاجیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کم و بیش 500 سکھوں کا ایک گروپ شاہین باغ پہنچا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق سکھوں کا یہ گروپ پنجاب میں زراعت سے جڑا ہوا ہے اور جب انھیں پتہ لگا کہ شاہین باغ میں عورتیں شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں تو وہ ان کی حمایت میں یہاں پہنچ گئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شاہین باغ کی خواتین نے ان سکھوں کا کھلے دل سے استقبال کیا اور پھر سبھی نے مل کر ’سی اے اے واپس لو‘، ’انقلاب زندہ باد‘ اور ’دیش کو بانٹنا بند کرو‘ جیسے نعرے بلند کیے۔
a large group of farmers (approx 500-600) from punjab have come to shaheen bagh supporting the protesters here. more are expected to join. pic.twitter.com/C2enNQaKYF
— Surekha (@surekhapillai) January 15, 2020
میڈیا میں آ رہی خبروں کے مطابق سکھوں کی شاہین باغ آمد کی خبر پھیلتے ہی مقامی مرد حضرات بھی وہاں پہنچے اور سبھی نے پرجوش انداز میں شہریت مخالف قانون کے خلاف آواز اٹھائی۔ بات چیت کے دوران کچھ سکھ مظاہرین نے کہا کہ شہریت قانون آئین کے خلاف ہے جسے ہر حال میں واپس لیا جانا چاہیے اور مذہب کی بنیاد پر کسی بھی تفریق ناقابل برداشت ہے۔ اس موقع پر شاہین باغ کی مسلم خواتین نے سکھوں کے لیے ’لنگر‘ کا بھی انتظام کیا اور اپنے ہاتھوں سے انھوں نے ان کے لیے لذیز پکوان بنائے۔ لنگر بنائے جانے کی تصویریں سوشل میڈیا پر کافی وائرل بھی ہو رہی ہیں۔
Delhi: 'Langar' being prepared in #ShaheenBagh where people have been sitting on a protest for last one month against #CAA and #NRC (ANI)https://t.co/6gKjvaL1rm pic.twitter.com/cswZMPItEv
— Janta Ka Reporter (@JantaKaReporter) January 15, 2020
واضح رہے کہ شاہین باغ میں گزشتہ تقریباً ایک مہینے سے بڑی تعداد میں خواتین کا احتجاج جاری ہے اور پولس کے زبردست دباؤ کے باوجود وہ ذرہ برابر بھی وہاں سے ہٹنے کو تیار نہیں ہوئیں۔ ہندوستانی و عالمی میڈیا بھی ان کو اچھی کوریج دے رہا ہے اور قابل قدر بات یہ ہے کہ سبھی خواتین اور طالبات انتہائی پرامن انداز میں یہ مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔



یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو