اورنگ آباد: (شہاب مرزا) اورنگ آباد میں گزشتہ 33 دنوں سے جاری شاہین باغ طرز کے زنجیری احتجاج جاری ہے دہلی کے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے احتجاج جاری ہے اس احتجاج کے خاص بات یہ ہے کہ اس کے قیادت خواتین کر رہی ہے ان خواتین کی ہمت افزائی کی غرض سے اورنگ باد کے ڈویژنل کمشنر آفس پر زنجیری احتجاج جاری ہے جسکے 33 دن مکمل ہوئے دہلی شاہین باغ احتجاج میں خواتین کی اکثریت ہے اسی طرح اورنگ آباد شاہین باغ میں بھی خواتین کی اکثریت ہے
گذشتہ کل شاہین باغ احتجاج میں مہمان خصوصی کے طور پر گجرات سے وکیل، سوشل ایکٹیویسٹ و شاعرہ اقراء خیلجی نے شرکت کرکے احتجاج کر رہی خواتین کی حوصلہ افزائی کی اس احتجاج میں شہر کے کالجس سے طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور حکومت کی جانب سے زبردستی عائد کردہ سی اے اے اور این آر سی قانون کے خلاف مظاہرہ کیا
اقراء خیلجی نے اپنے خطاب میں کہا حکومت نے میڈیا کے ذریعے انصاف پسند عوام جو آزاد ملک میں آزادی مانگ رہے ہیں انہیں غدار وطن، پاکستانی قرار دے کر پروپگنڈہ کے تحت نفرت پھیلائی اور باقی کام فلموں میں کردار کے ذریعے عوام کے دماغ میں ڈالا گیا لیکن آج ملک میں شاہین باغ نام کی جو تحریک کھڑی ہوئی ہے اس شاہین باغ نے پورے ملک کو ایک جگہ لا کر کھڑا کر دیا اور نفرت کے سوداگروں کو پیغام دیا کہ تم کتنا بھی بانٹو ہم ایک ہے پورا ملک جمہوریت و انصاف پسند ہے جب جب ملک میں نا انصافی، ظلم و زیادتی ہوگی پورا ملک سراپا احتجاج ہوگا ہم آزاد ملک میں پوری آزادی مانگ رہے ہیں جو ہمیں ملک کے آئین ساز ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے آئین میں دئیے ہے اور ہم پوری آزادی حاصل کرکے ہی دم لیں گے وہ دن دور نہیں اس تحریک کو جاری رکھیں انشاءاللہ جیت انصاف پسند عوام کی ہی ہوگی
ملک بھر میں شہریت ترمیم قانون کے نفاذ کے بعد سے لگاتار احتجاج کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان احتجاج سے حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہوں لیکن یہ بڑی تحریک ہے جبکہ مرکزی حکومت کسی بھی قیمت پر اس قانون کو عائد کرنے کے موقف پر اٹل ہے وہیں عوام بھی اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے لگاتار اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں اور احتجاج میں جمے ہوئے ہیں
اورنگ آباد میں جاری زنجیری احتجاج بھی شاہین باغ طرز پر رواں دواں ہے جب تک حکومت اس قانون کو واپس نہیں لیتی تب تک یہ احتجاج جاری رہے گا تمام شہریان سے گزارش ہے کہ کثیر تعداد میں شریک ہوکر اس تحریک کا حصہ بنے ہم آزاد ملک میں آدھی نہیں پوری آزادی لیں گے حکومت اس تحریک کو دبانے کے لیے پولیس کا استعمال کرکے نوجوان تحریک داں کو گرفتار کر رہی ہے لیکن اس آزادی کی تحریک کو کچلا نہیں جاسکتا کیونکہ یہ تحریک اب ہندوستان بمقابلہ حکومت ہوگئی ہیں